
اقوام متحدہ :چین میں تعینات اقوام متحدہ کے کوآرڈینیٹر سدھارت چتر جی نے باضابطہ طور پر چین میں اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کر لی – انہوں نے سی ایم جی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ چین میں ان کا کام کرنے کا عرصہ ان کے کیریئر کا سب سے قیمتی وقت ہے۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران انہوں نے براہِ راست چین کی زمین پر فخراور شان کو دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ ‘پندرہویں پانچ سالہ منصوبہ’ میں داخل ہوتے ہوئے، وہ یقین رکھتے ہیں کہ چین کی ترقی دنیا کو مزید مواقع فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود دیکھا ہے کہ ‘بیلٹ اینڈ روڈ’ انیشی ایٹو ، گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو ، چائنا-اَفریقہ تعاون فورم وغیرہ کے ذریعے چین کا ترقیاتی تجربہ افریقہ کے کئی علاقوں میں بڑی تبدیلی لا رہا ہے۔
سدھارت چتر جی نے کہا کہ چین کا اقوام متحدہ میں کردار انتہائی اہم ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں، اقوام متحدہ نے چین کی حکومت اور عوام کے ساتھ مضبوط اعتماد قائم کیا اور انتہائی مؤثر تعاون کیا۔ دیہی احیا کی حکمت عملی بلا شبہ ایک اہم کامیابی ہے۔ اس کے علاوہ، چین نے صحرائی زمین کی بحالی میں بھرپور کامیابی حاصل کی ہے ۔ دنیا کے بہت سے علاقے جو صحرائی کے مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں، چین کی سبز تبدیلی کے عملی تجربات سے سبق حاصل کر سکتے ہیں۔ چین نے خوراک کی حفاظت، عوامی مرکزیت کے اصول، دیہی اور کمیونٹی ترقی کو فروغ دینے، اور ‘کسی کو بھی پیچھے نہ رہنے دینا کے نظریے پر عمل کرنے میں ایک مثال قائم کی ہے ، اور دنیا نے بھی چین کے حکومتی نظام کی مؤثر ہم آہنگی دیکھی ہے ۔ سدھارت چتر جی نے کہا کہ چین کی غربت میں کمی کی کامیابی نے براہِ راست اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے عالمی عمل کو فروغ دیا ہے، اور چین کی مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں تکنیکی اختراعات کا تجربہ مزید ترقی پذیر ممالک کی ترقی میں مدد کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ چین کے ‘پندرہویں پانچ سالہ منصوبہ کے بارے میں بہت پرامید ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ یہ دنیا کے لیے مزید مواقع لے آئے گا۔





