
فتح جنگ میں عوامی صحت کے تحفظ کے لیے بڑی کارروائی سامنے آئی، جہاں پرائس کنٹرول مجسٹریٹ چوہدری شفقت محمود حسبِ معمول رات گئے گشت اور مختلف چیک پوسٹوں کی نگرانی کر رہے تھے۔ اسی دوران انہیں تین مشکوک سوزوکی گاڑیاں نظر آئیں جنہیں روک کر تلاشی لی گئی۔
ابتدائی پوچھ گچھ میں گاڑیوں میں سوار افراد نے بتایا کہ وہ مردہ مرغے روات فیکٹری لے جا رہے ہیں، تاہم وہ تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ بعد ازاں انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ مزدور ہیں اور ایک ہزار روپے یومیہ اجرت پر مالکان کے کہنے پر یہ مال منتقل کر رہے تھے۔
تینوں سوزوکی گاڑیاں فتح جنگ چوکی کے قریب کھڑی کر دی گئیں۔ گاڑیوں سے اس قدر شدید تعفن اٹھ رہا تھا کہ قریب کھڑا ہونا بھی دشوار تھا۔ مجموعی طور پر تقریباً 110 من مردہ مرغیاں لوڈ تھیں، جو مبینہ طور پر 500 روپے فی من کے حساب سے خریدی گئیں اور 900 روپے فی من فروخت کی جانی تھیں۔
ذرائع کے مطابق خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ مردہ گوشت مختلف ہوٹلوں، شادی ہالز، پیزا اور شوارما سینٹرز تک سپلائی کیا جانا تھا، تاہم اس حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے اور اہم انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔
اس دبنگ اور بروقت کارروائی پر سردار موارہن خان (ڈی پی او اٹک) نے چوہدری شفقت محمود کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔
عوامی حلقوں نے بھی چوہدری شفقت محمود کی جرات مندانہ اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی عقابی نظروں سے قانون شکن عناصر بچ نہ سکے، حالانکہ گاڑیوں کو مہارت سے پیک کیا گیا تھا تاکہ بدبو باہر نہ آئے۔ یہ خبر علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور شہریوں نے اس کارروائی کو صحتِ عامہ کے تحفظ کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔




