
بیجنگ :چین کی وزارت تجارت نے چینی مصنوعات کے خلاف امریکہ کی سیکشن 301 کی مجوزہ تحقیقات اور اضافی محصولات عائد کرنے کی دھمکی پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے حقوق و مفادات کے دفاع میں چین کے مضبوط موقف کا اعادہ کیا اور امریکہ کی الزام تراشی نیز غیر معقول اقدام پر براہ راست تنقید کی۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ٹیرف اقدامات کو غیر قانونی قرار دینے کے حالیہ فیصلے کے جواب میں ، ٹرمپ انتظامیہ سیکشن 301 جیسے اقدامات کا استعمال کرکے زیادہ سے زیادہ دباؤ جاری رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔
اس اقدام کو نہ صرف چین کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے بلکہ اس نے دنیا بھر کی بڑی معیشتوں کی جانب سے اجتماعی عدم اطمینان اور ہو شیار رہنے کی سوچ کو جنم دیا ہے۔ امریکا اپنی تجارتی غنڈہ گردی کے رویے کے باعث اخلاقی بلندی اور حمایت کھو بیٹھا ہے۔امریکہ کی طرف سے یہ ہیرا پھیری نہ صرف چین اور امریکہ کے درمیان پہلے مرحلے کے تجارتی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ یہ بین الاقوامی تجارتی قوانین کی بھی پامالی ہے۔ چین نے ہمیشہ معاہدوں کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے وبائی امراض اور سپلائی چین میں رکاوٹوں جیسی متعدد مشکلات پر قابو پاتے ہوئے حقوق املاک دانش کے تحفظ اور مارکیٹ تک رسائی کے معاہدوں کے تحت اپنے وعدوں کو طے شدہ شیڈول کے مطابق نہ صرف پورا کیا ہے بلکہ تجارتی تعاون کو بڑھانے میں بھی اپنی ذمہ داریاں پوری طرح نبھائی ہیں۔ دوسری جانب امریکہ نے چین پر برآمدی کنٹرول کو سخت کیا ، دو طرفہ سرمایہ کاری کو محدود کیا، جان بُوجھ کر معاہدے پر عمل درآمد کی شرائط کو کمزور کیا اور ساتھ ہی ساتھ چین کو مسائل کا ذمہ دار ٹھہرا کر سیکشن 301 کی تحقیقات کے بہانے زیادہ دباؤ بھی ڈالا ہے۔
اس قسم کا طرز عمل امریکہ کا ایک عام حربہ ہے۔ میڈرڈ مذاکرات کے بعد پابندی کے متعدد اقدامات متعارف کروانے سے لے کر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد تیزی سے متبادل اقدامات کے نفاذ تک، ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کی من مانی اور کم نظری پوری طرح عیاں ہے ۔امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کا بین الاقوامی برادری نے خیرمقدم کیا، لیکن امریکہ نے اسے غیر متعلقہ واقعہ سمجھ کر نظر انداز کیا اور اس کے خودسر اقدامات سے عالمی اتحادیوں اور تجارتی شراکت داروں میں شدید ناراضی پھیلی ہے ۔ یورپی یونین نے کھل کر کہا کہ امریکہ کی طرف سے غیر محدود کسٹمز ڈیوٹی عائد کرنے کا دور ختم ہونے والا ہے۔یورپی یونین نے فوری طور پر تجارتی کمیٹی کا اجلاس بلایا اور یورپ-امریکہ تجارتی معاہدے کی منظوری کو مؤخر کرنے کی تجویز دی۔
کینیڈا نے کہا کہ یہ فیصلہ امریکی کسٹمز اقدامات کی بے منطقی کو ثابت کرتا ہے اور کہا کہ کینیڈا اپنے ملک کے صنعتی مفادات کی مسلسل حفاظت کرے گا۔ بھارت نے تو امریکہ کے ساتھ براہ راست تجارتی مذاکرات کو ملتوی کر دیا۔ امریکہ نے صرف 24 گھنٹوں میں عالمی کسٹمز ڈیوٹی کو 10 فیصد سے 15فیصد تک بڑھا یا ۔امریکی پالیسی میں بار بار تبدیلی سے نہ صرف اتحادیوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا ہے بلکہ عالمی سپلائی چین مزید انتشار کا شکار ہو گئی ہے اور یوں امریکہ کے یکطرفہ اقدامات کی دنیا کی تجارتی اور اقتصادی نظام کو نقصان پہنچانے کی حقیقت واضح ہو گئی ہے ۔امریکہ نے مسلسل اپنے لیوریج کو بڑھاوا دیا ہے اور چین کے بدلہ لینے کے عزم نیزمختلف ممالک کی کثیرالطرفہ تجارت کی عالمی مانگ کو کم سمجھا ہے جس سے خود امریکہ کو نقصان ہوا ہے ۔ امریکی ٹیرف کی دھمکی نے امریکی اسٹاک اور کرنسی مارکیٹ میں زبردست گراوٹ کو جنم دیا، جس سے عالمی منڈیوں میں خوف و ہراس پھیلا ۔ امریکی کاروباری اداروں اور صارفین نے 90 فیصد سے زیادہ ٹیرف کے اخراجات برداشت کیے، اوروصول کردہ ٹیکس رقم کی واپسی کا مسئلہ اب کافی پیچیدہ ہو گیا ہے ۔ چین کا جواب نہ صرف اپنے جائز حقوق و مفادات کے دفاع کے لیے ہے بلکہ بین الاقوامی عدل و انصاف کے تحفظ کے لیے بھی ہے۔ ٹرمپ کی دوسری مدت کے بعد سے، امریکہ کی طرف سے تجارتی بلیک میلنگ کے ہر واقعے نے بیک فائر کیا ہے۔ ماضی میں بھی دیکھا گیا ہے کہ چین پر دباؤ کے ہتھکنڈے اثر نہیں کرتے اور امریکہ کا ٹیرف ہتھیار کاغذی شیر کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوا ۔چین امریکہ اقتصادی و تجارتی تعلقات کی باہمی فائدے اور جیت جیت کی نوعیت طویل عرصے سے عملی طور پر ثابت شدہ ہے۔ گزشتہ سال کے دوران، چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی مذاکرات کے پانچ دور کئی اتفاق رائے پر پہنچے ہیں، جس سے دو طرفہ تجارتی تعلقات مستحکم ہوئے اور عالمی منڈی میں مستحکم توقعات سامنے آئیں۔ دنیا کی سب سے بڑی دو معیشتوں کے طور پر، چین اور امریکہ کے درمیان مضبوط صنعتی تکمیل اور تعاون کے وسیع امکانات ہیں۔ چین کی صنعتی اپ گریڈنگ کبھی بھی امریکہ کے لیے نقصان کا باعث نہیں رہی بلکہ یہ دونوں ممالک کے لیے مشترکہ مفادات کو تلاش کرنے کا نیا موقع ہوگی۔ "ہار جیت” کا زیرو سم کھیل بنانے کی امریکی کوشش، نہ صرف اقتصادی عالمگیریت کے رجحان کو نظر انداز کرتی ہے بلکہ یہ دونوں ممالک کے عوام کے مشترکہ مفادات کے خلاف بھی ہے۔ٹیرف وار میں کبھی کوئی فاتح نہیں ہوتا۔ یہ بین الاقوامی برادری میں ایک عام اتفاق رائے ہے۔ چین ہمیشہ سے دونوں ممالک کے صدور کے درمیان طے پانے والے اتفاق رائے کی رہنمائی میں جیت جیت کے نتائج پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے اقتصادی اور تجارتی مشاورت کے میکانزم کا اچھا استعمال کرنے کو تیار رہا ہے، لیکن یہ خلوص کبھی بھی غیر محدود مصالحت نہیں رہی اور نہ ہو گی ۔ جیسا کہ چین کی وزارت تجارت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ "مسائل کو پیدا کرنے” پر اصرار کرتا ہے تو چین یقیناً تمام ضروری جوابی اقدامات کرے گا۔ صرف یکطرفہ اور تسلط پسندانہ جنون کو ترک کرکے، معاہدے کے نفاذ کے حقائق کو معروضی اور عقلی طور پر دیکھنے اور باہمی احترام اور مساوی مشاورت کے درست راستے پر واپس آنے سے ہی امریکہ اور چین کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات اتار چڑھاؤ سے بچ سکتے ہیں اور ہنگامہ خیز عالمی معیشت میں استحکام فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ نہ صرف چین اور امریکہ کی توقع ہے بلکہ دنیا بھر کی بڑی معیشتوں کی مشترکہ خواہش بھی ہے۔




