بین الاقوامی

جرمن چانسلر میرس کا چین کا دورہ،یورپ کا عملی انتخاب

بیجنگ : جرمن چانسلر فریڈرش میرس25 فروری کو طے شدہ پروگرام کے مطابق دورہ چین کا آغاز کر رہے ہیں۔ روانگی سے قبل انہوں نے سوشل میڈیا پر اس پیغام سے خیر سگالی کا اظہار کیا کہ "امید ہے گھوڑے سے منسوب سال جرمنی اور چین کے تعلقات میں نئی قوت پیدا کرے گا”۔عوامی سطح پر انہوں نے کہا کہ چین کی کامیابی کا اصل راز اس کی دیرپا حکمت عملی پر مبنی استقامت ہے۔ یورپی ماہرین کے نزدیک”دیر سے مگر نہایت بامعنی” اس دورے کو نہ صرف میرس کی ذاتی سوچ کی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے بلکہ یہ عالمی نظام کی تشکیل نو کے دور میں یورپ کے چین سے تعلقات کو نئے زاویے سے دیکھنے کا عملی انتخاب بھی ہے۔میرس نے مغرب اور چین کے ترقیاتی ماڈلز کے درمیان بنیادی فرق کو واضح طور پر سمجھا ہے۔ یہ قدامت پسند اور عملیت پسند سیاست دان بخوبی سمجھتے ہیں کہ چین کا عروج محض جی ڈی پی کے اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ اس کی بنیاد غیر معمولی حکمت عملی پر عملدرآمد کی صلاحیت اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی فتح ہے۔

جہاں مغربی کاروباری ادارے اگلی سہ ماہی کے مالیاتی نتائج کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں اور مغربی سیاست دان انتخابی چکروں کی قلیل مدتی سوچ میں الجھے ہوتے ہیں، وہیں چین بیس سال بعد کی توانائی کی ضروریات اور جغرافیائی سیاسی صورتحال کے لیے آج ہی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ دس سال قبل شمسی توانائی اور الیکٹرک گاڑیوں پر کی گئی بھاری سرمایہ کاری سے لے کر آج عالمی سطح پر گرین سپلائی چین پر غلبہ حاصل کرنے تک، اور جنوب سے شمال کی طرف پانی منتقلی منصوبے اور جہاز سازی کے پروگرام جیسے کئی نسلوں پر محیط "ریلے ریس” کے منصوبے، یہ طویل المدتی حکمت عملی پر مبنی منصوبہ بندی ہی چین کی کامیابی کا اصل راز ہے۔میرس کے یہ تاثرات دراصل یورپ کی اپنی مشکلات اور حقیقت سے آگاہی کے عکاس ہیں۔ انہوں نے گرین انرجی منصوبوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ چین چند ماہ میں دنیا کا سب سے بڑا شمسی توانائی کا پلانٹ تعمیر کر سکتا ہے جبکہ یورپی یونین میں اسی نوعیت کے منصوبے کو منظوری میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ جرمنی میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی منظوری میں اکثر دہائیوں کی تاخیر ہو جاتی ہے، ریلوے کی تعمیر اور مرمت کا سلسلہ التوا کا شکار رہتا ہے، جس کی وجہ ٹیکنالوجی کی کمی نہیں بلکہ مفادات کی کشمکش اور انتخابی سیاست کی رکاوٹیں ہیں۔

دوسری طرف امریکی تجارتی تحفظ پسندی نے یورپ کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جرمن مصنوعات پر 25 فیصد محصول عائد کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جبکہ جرمنی کی 93 فیصد کمپنیاں چینی منڈی میں فعال سرگرم ہیں اور ووکس ویگن، بی ایم ڈبلیو جیسے کار ساز اداروں کے منافع کا تیس فیصد سے زائد حصہ چین سے آتا ہے۔ ایک طرف امریکہ کی غیر یقینی پالیسی ہے تو دوسری طرف چین کی ناقابلِ متبادل منڈی ، ایسے میں میرس کی حکومت نے آخرکار یہ سمجھ لیا ہے کہ چین سے تعلقات کو فروغ دینا جرمن معیشت کی بقا کے لیے ناگزیر انتخاب ہے۔عالمی نظام کے انتشار کے پس منظر میں میرس کا دورہ چین ، یورپ کی اسٹریٹجک خودمختاری کی جستجو کی علامت بھی ہے۔ میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں انہوں نے واضح طور پر پرانے نظام کے خاتمے کا ذکر کیا، جو دراصل امریکہ کی "طاقت ہی سب کچھ ہے” کی منطق پر ایک غیر واضح تنقید ہے۔ یورپ کے لیے ضروری ہے کہ وہ چین۔امریکہ کشمکش میں اندھی تقلید کے بجائے توازن قائم رکھے، نہ تو نام نہاد "ڈی رسکنگ” کے جال میں پھنسے اور نہ ہی چین کے ساتھ اقتصادی تعاون ترک کرے۔ میرس کے دورہ چین سے قبل 3 ارب یورو کے الیکٹرک گاڑیوں کے سبسڈی پیکج کا اعلان اور چینی کار ساز اداروں کو اس میں شامل ہونے کی واضح اجازت، اسی متوازن سوچ کا مظہر ہے۔ یہ دورہ دراصل یورپ کی اس کوشش کا مظہر ہے کہ وہ "کسی ایک کا ساتھ دینے” کے فریم ورک سے نکل کر کثیر الفریق تعاون میں اپنا مقام تلاش کر سکے۔کچھ لوگ میرس کی چین کے بارے میں تعریف کو "خوشامد” قرار دے سکتے ہیں، لیکن اس دورے کی اہمیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ ایک دو طرفہ کوشش ہے: چین کو یورپ کی جدید ٹیکنالوجی اور منڈی کی ضرورت ہے، یورپ کو چین کی نئی ٹیکنالوجی کی بھی ضرورت ہے، اور اس سے بھی اہم بات چین کی پالیسیوں کا استحکام اور طویل المدتی ترقی کے مواقع ہیں۔ میرس کے لیے یہ سوچ میں تازگی کا موقع ہے،، جرمن چین تعلقات کے لیے یہ تعطل کو توڑنے کا نقطۂ آغاز ہے، اور عالمی سطح پر یہ عظیم طاقتوں کے درمیان تعاون اور مشترکہ فائدے کی تلاش کی ایک مثال ہے۔پرانا نظام بکھر چکا ہے اور نیا توازن تشکیل پا رہا ہے۔میرس کا گھوڑے سے منسوب سال میں چین کا دورہ، چین کی ترقی کے طریقۂ کار کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ یورپ کی عملی ضروریات کو بھی اپنے ساتھ لے کر آیا ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال سے بھری دنیا میں، قلیل المدتی سوچ اور تصادم کو ترک کر کے، اسٹریٹجک تحمل اور عملیت پسندی کو اپنانے سے ہی بین الاقوامی تعلقات میں حقیقی توانائی پیدا کی جا سکتی ہے۔ یہی میرس کے دورہ چین کا بنیادی پیغام ہے اور مستقبل کے بین الاقوامی تعاون کی واحد صحیح راہ بھی۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker