
بیجنگ :چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے ٹیرف کیس میں امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چین نے اس فیصلے کا نوٹس لیا ہے اور اس کی تفصیلات اور اثرات کا جامع جائزہ لیا جا رہا ہے۔ چین نے ہمیشہ یکطرفہ طور پر اضافی محصولات عائد کرنے کے ہر قسم کے اقدامات کی مخالفت کی ہے اور بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا اور تحفظ پسندی کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔ ریسیپروکل محصولات اور فینٹانائل ٹیرف جیسے امریکی یکطرفہ اقدامات، نہ صرف بین الاقوامی تجارتی ضوابط اور امریکہ کے ملکی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہیں۔
حقائق نے باربار ثابت کیا ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان تعاون سے فوائد جبکہ محاذ آرائی سے نقصان پہنچتا ہے۔ چین نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے تجارتی شراکت داروں پر یکطرفہ محصولات کا خاتمہ کرے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ چین نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ امریکہ اپنے تجارتی شراکت داروں پر عائد محصولات کو برقرار رکھنے کے لیے تجارتی تحقیقات جیسے متبادل اقدامات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ چین اس کا باریک بینی سے مشاہدہ کررہا ہے اور اپنے مفادات کا ثابت قدمی کے ساتھ تحفظ کرے گا۔





