
واشنگٹن (آئی پی ایس) امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ٹیرف کے فیصلے کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کردیا۔
تفصیلات کے مطابق امریکی سپریم کورٹ نے گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ کے وسیع عالمی ٹیرف پلان کو غیر قانونی قرار دیا کیونکہ انہوں نے قانون کے بغیر خود سے ٹیرف عائد کیا تھا۔
ٹرمپ نے اس فیصلے پر شدید تنقید کی اور فوراً ایک نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا جس کے تحت تمام ممالک پر 10 فیصد گلوبل ٹیرف عائد کردیا گیا جسے 150 دن تک نافذ رکھا جائے گا، بشرطیکہ کانگریس اسے توسیع نہ دے۔
نئی 10 فیصد ٹیرف تمام ملکوں سے آنے والی درآمدات پر لاگو ہوگا۔ اگرچہ کچھ اشیا اور مخصوص ممالک (مثلاً کینیڈا اور میکسیکو کیلئے کچھ استثنیٰ بھی بیان کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ ٹرمپ کی تجارتی پالیسی کے لیے بڑا دھچکا تصور کیا جارہا ہے، کیونکہ عدالت نے کارپوریٹ اور اقتصادی امور میں کانگریس کے کردار کو فوقیت دی ہے۔
ٹرمپ کا نیا 10 فیصد ٹیرف عالمی تجارت کے اصولوں کو تبدیل کرنے کا اعلان ہے۔ کچھ ممالک نے اس پر تحفظات ظاہر کیے ہیں، جبکہ بعض نے اس کو تجارتی تناؤ میں اضافہ قرار دیا ہے۔
خدا نے یہ زمین اسرائیلیوں کو دی ہے، پورے خطے پر قبضہ اسرائیل کا حق ہے، امریکی سفیر
اسرائیل میں امریکا کے سفیر مائیک ہکابی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر اسرائیل مشرق وسطیٰ کے وسیع علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لے تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق یہ بات انہوں نے امریکی تجزیہ کار ٹکر کارلسن کے ساتھ ایک پروگرام میں کہی، جہاں کارلسن نے انہیں اسرائیل کے ممکنہ جغرافیائی حدود کے بارے میں سوالات کے لیے دباؤ ڈالا تو انہوں نے بائبل کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خدا نے یہ زمین اسرائیلیوں کو دی ہے اور پورے خطے پر قبضہ کرنا اسرائیل کا حق ہے، اسرائیل کا دریائے نیل سے نہر فرات تک کے علاقوں پر قبضہ کرنا ٹھیک ہوگا۔
ماہرین کے مطابق دریائے نیل سے دریائے فرات تک کا تصور بنیادی طور پر گریٹر اسرائیل کے شدت پسند نظریے سے جڑا ہوا ہےجو لبنان سے لے کر سعودی عرب کے صحراؤں اور بحیرہ روم سے عراق کے نہر فرات تک کے خطے پر مشتمل ہے۔





