
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف اور اپوزیشن اتحاد کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ خیبرپختونخوا ہاؤس کے باہر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں دھرنا جاری ہے، جبکہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور بھی مظاہرین کے ہمراہ موجود ہیں۔
اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت ان کا واحد ایجنڈا ہے اور جب تک انہیں مناسب طبی سہولت فراہم کرتے ہوئے اسپتال منتقل نہیں کیا جاتا، احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ احتجاج مکمل طور پر پرامن ہوگا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے دوران روشنی کے مناسب انتظامات نہ ہونے پر اپوزیشن قائدین پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر جا کر بیٹھ گئے تھے۔
گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے عمران خان کے لیے آنکھ عطیہ کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے حلقے کے متعدد افراد بھی اپنی آنکھ عطیہ کرنے کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں اور اس سلسلے میں تقریباً 100 افراد کی فہرست تیار کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عوام کی اپنے قائد سے محبت کا اظہار ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان کی صحت سے متعلق تحفظات کے باعث جمعے کے روز شروع ہونے والا یہ احتجاج بدستور جاری ہے۔ اپوزیشن اتحاد کا کہنا ہے کہ جب تک عمران خان کو الشفا اسپتال میں داخل نہیں کیا جاتا، دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔





