
بیجنگ :چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے جرمنی کے شہر میونخ میں جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول اور فرانسیسی وزیر خارجہ جین نوئل ہاروٹ کے ساتھ سہ فریقی وزرائے خارجہ کی ملاقات میں شرکت کی ۔ہفتہ کے روز وانگ ای نے کہا کہ چین، جرمنی اور فرانس کے وزرائے خارجہ کے درمیان پہلی سہ فریقی ملاقات بدلتے ہوئے حالات کے جواب میں ایک اختراعی اقدام اور تزویراتی رابطے کا ایک اہم موقع ہے۔ ذمہ دار بڑے ممالک اور بڑی عالمی معیشتوں کی حیثیت سے، تینوں ممالک عالمی امن اور ترقی کے لیے اہم ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں ۔
وانگ ای نے کہا کہ ہمیں باہمی احترام کے بنیادی اصول پر عمل کرنا چاہیے، اختلافات کو ملحوظ رکھتے ہوئے مشترکہ بنیاد تلاش کرنے کے اصول کو برقرار رکھنا چاہیے، کھلے پن اور تعاون پر مبنی سمت کی وکالت کرنی چاہیے، باہمی فائدہ مند تعاون کو فروغ دینا چاہیے، چین-یورپی یونین تعلقات کی ترقی کی سمت کو واضح کرنا چاہیے، اور پیچیدہ اور غیر مستحکم بین الاقوامی صورتحال میں مزید استحکام اور یقین فراہم کرنا چاہیے۔وانگ ای نے اس بات پر زور دیا کہ چین اور یورپ کے درمیان 50 سال کےمیل جول اور تعاون نے ثابت کیا ہے کہ دونوں فریق شراکت دار ہیں، مخالف نہیں۔انہوں نے کہا کہ باہمی انحصار کوئی خطرہ نہیں ہے۔ آپس میں جڑے ہوئے مفادات کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور ایک کھلا تعاون سلامتی کو کمزور نہیں کرے گا۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ چین کی ترقی یورپ کے لیے ایک موقع ہے،
اور یورپ کے چیلنجز چین سے نہیں آتے۔ دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کے بنیادی مفادات اور اہم خدشات کا احترام کرنا چاہیے، اختلافات کو مناسب طریقے سے سنبھالنا چاہیے، عملی تعاون کو گہرا کرنا چاہیے اور عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ اس وقت دنیا میں بدامنی اور عدم استحکام پایا جاتا ہے، تو جرمنی اور فرانس کو چین کے ساتھ رابطے اور بات چیت، باہمی اعتماد میں اضافے ، غلط فہمیوں کے ازالے، عظیم طاقتوں کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے اور مشترکہ آواز بلند کرنے کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی صورتحال جتنی زیادہ غیر مستحکم ہوگی، شراکت داری کی ضرورت اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ فرانس مستحکم اور مثبت یورپ چین تعلقات کو بحال کرنے کے لیے پرعزم ہے۔تینوں فریقوں نے چین اور یورپ کے تعلقات کے اہم مسائل اور یوکرین کے بحران جیسے مشترکہ دلچسپی کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ تینوں فریقوں نے ملاقات کی اہمیت کے بارے میں مثبت رائے دی اور اسٹریٹجک مواصلات کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔





