بین الاقوامی

یورپی رہنماؤں کے چین کے متواتر دوروں کی نمایاں اہمیت ، چینی میڈیا

بیجنگ:گزشتہ سال کے اواخر سے متعدد یورپی ممالک کے رہنما یکے بعد دیگرے چین کا دورہ کر چکے ہیں۔ اسپین اور فرانس سے لے کر آئرلینڈ، فن لینڈ اور برطانیہ تک، یہ وہ ممالک ہیں جو یورپ میں نمایاں نمائندگی اور اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ماہرین کے مطابق، یورپی رہنماؤں کا اجتماعی طور پر”مشرق کا رخ کرنا” چین کی منفرد کشش کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک ایسے عالمی ماحول میں جہاں عدم استحکام اور تبدیلیاں باہم الجھی ہوئی ہیں، چین دنیا کو قیمتی استحکام اور ترقی کی قابل پیش گوئی سمت فراہم کر رہا ہے۔

اگر یورپی رہنماؤں کے دورۂ چین پر مفصل غور کیا جائے تو عملی تعاون کو مضبوط بنانا سب کا مشترکہ مطالبہ دکھائی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر چین اور فن لینڈ کے درمیان متعدد تجارتی معاہدوں پر دستخط ہوئے، جن میں معدنیاتی مشینری، طبی سہولیات، سبز تعمیرات جیسے شعبے شامل ہیں۔ اسی طرح چین اور برطانیہ نے بیجنگ میں تجارت، زرعی و غذائی شعبے، میڈیا، تعلیم اور مارکیٹ نگرانی سمیت مختلف میدانوں میں تعاون کی متعدد دستاویزات پر دستخط کیے۔چین۔ یورپ تعلقات کے تناظر میں، یورپی رہنماؤں کے متواتر دورۂ چین کو بھی ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یورپی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے دوران صدر شی جن پھنگ نے ایک بار پھر چین۔یورپ تعلقات کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح کیا کہ "چین اور یورپ حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہیں، اور دونوں کے درمیان تعاون مسابقت سے زیادہ جبکہ اتفاقِ رائے اختلافات سے بڑھ کر ہے۔” یورپی ممالک کے رہنماؤں نے چینی قیادت کے ساتھ کھلے دل سے تبادلۂ خیال کیا، چین میں مختلف شعبوں کی ترقی کا مشاہدہ کیا اور عملی تعاون کے نتائج کا تبادلہ کیا، جو چین۔یورپ تعلقات کو صحت مند سمت میں آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا۔عالمی نظام میں اہم قوتوں کے طور پر چین اور یورپ کا ایک دوسرے کے قریب آنا موجودہ غیر یقینی اور بے چین دنیا کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ صدر شی جن پھنگ نے یورپی رہنماؤں کے سامنے عالمی خطرات اور چیلنجز سے نمٹنے کے حوالے سے چین کا نقطۂ نظر کچھ یوں بیان کیا "بڑی طاقتوں کو بالخصوص برابری، قانون کی حکمرانی، تعاون اور دیانت داری کی مثال قائم کرنی چاہیے” اور "بین الاقوامی قانون اسی وقت حقیقی طور پر مؤثر ہوتا ہے جب تمام ممالک اس کی پاسداری کریں۔” متعدد یورپی رہنماؤں نے بین الاقوامی امور میں چین کے اہم کردار کو سراہا اور کثیرالجہتی نظام اور آزاد تجارت کی حمایت کا اظہار کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ امر اس خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ چین اور یورپ مل کر دنیا میں استحکام اور یقین دہانی کی قوت بنیں۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker