
بیجنگ : برطانوی وزیر اعظم کئیر اسٹارمر کے دورہ چین کے دوران چین اور برطانیہ نے جو مثبت نتائج حاصل کیے وہ یہ ہیں ۔۱۔ فریقین چین اور برطانیہ کے درمیان طویل مدتی، مستحکم اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔۲۔ چین اور برطانیہ کے درمیان اعلیٰ سطحی آب و ہوا اور فطرت کی شراکت داری قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔۳۔ چین اور برطانیہ کے درمیان اعلیٰ سطحی سیکیورٹی مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں گے ۔۴۔ اس سال کے دوران ا سٹریٹجک ڈائیلاگ ، اکنامک اینڈ فنانشل ڈائیلاگ اور اقتصادی و تجارتی مشترکہ کمیٹی کے اجلاس جیسے ادارہ جاتی مکالموں کا انعقاد کیا جائے گا۔۵۔ قومی طور پر دونوں ممالک کی قانون ساز اسمبلیوں کے معمول کے تعلقات بحال کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ چین خواہش رکھنے والے برطانوی اراکین کو چین کا دورہ کرنے اور چین کو حقیقی طور پر سمجھنے کے لیے خوش آمدید کہے گا ۔۶۔چین- برطانیہ انٹرپرینیور کمیٹی کانفرنس کے انعقاد اور دو طرفہ تجارتی سرمایہ کاری کے تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا گیا۔۷۔ دونوں فریقوں نے چین-برطانیہ مالیاتی ورکنگ گروپ کے قیام اور اس کے پہلے اجلاس کے انعقاد کا خیرمقدم کیا۔ فریقین نے بینک آف چائنا کی لندن برانچ کے دوسرے برطانوی آر ایم بی کلیرنگ ہاؤس کے طور پر قیام کا بھی خیرمقدم کیا، اور اتفاق کیا کہ مل کر چین-برطانیہ انشورنس فورم کا انعقاد کیا جائے گا ۔۸۔ چین برطانوی شہریوں کے لیے یکطرفہ ویزا فری پالیسی پر عمل درآمد پر غور کر رہا ہے۔۹- چین وہسکی پر درآمدی ٹیرف کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کرے گا۔۱۰- دونوں ممالک کے رہنماؤں نےمعیشت و تجارت، زرعی خوراک، ثقافت، مارکیٹ سپرویژن، اور قانون کے نفاذ کے تعاون سمیت شعبوں میں 12 بین الحکومتی تعاون کی دستاویزات پر دستخط کا مشاہدہ کیا۔ ۱۱۔ فریقین نے مالیات، صحت، میڈیا اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کے کئی سمجھوتوں پر بھی اتفاق کیا۔





