پاکستانٹاپ سٹوری

شرح سود برقرار: گورنرسٹیٹ بینک کا مانیٹری پالیسی کا اعلان

کراچی:(آئی پی ایس) گورنرسٹیٹ بینک جمیل احمد نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا، شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
شہرِ قائد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جمیل احمد کا کہنا تھا کہ شرح سود 2ماہ کیلئے برقرار رکھی گئی ہے، ایکسپورٹ میں سود اس سال 6فیصد کم ہونے کا چانس ہے جب کہ مہنگائی کی شرح7.4فیصد پربرقرار رہے گی۔

اُنہوں نے کہا کہ ایگری کلچر کی گروتھ اِس سال بہتر رہے گی، ملکی برآمدات میں کمی واقع ہوئی مگر ترسیلات زر کے نمبرز میں بہتری آئی ہے، سال 2026 میں ملکی افراط زر کی شرح 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہے گی۔

گورنرسٹیٹ کا کہنا تھا کہ افراط زر کی شرح رواں سال کچھ مہینوں میں 7 فیصد سے زیادہ بھی رہ سکتی ہے، ملکی درآمدات بڑھنے سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ صفر سے 1 فیصد کے درمیان رہے گا، رواں سال ملکی درآمدات 8 فیصد بڑھ سکتی ہیں اور برآمدات 6 فیصد کم ہو سکتی ہیں۔

محمد جمیل نے کہا کہ بڑی صنعتوں کی ترقی گزشتہ آٹھ ماہ سے بہتر ہوکر 10 فیصد سے اوپر جا چکی ہے، فصلوں کی بہتر پیداوار اور سیلاب کی محدود تباہ کاریوں سے زرعی نمو رواں سال بہتر رہے گی، ملکی جی ڈی پی گروتھ رواں سال 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان رہے گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ بیرونی ادائیگیوں کے باوجود ملکی زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 16ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، رواں سال جون تک ملکی زرمبادلہ ذخائر18 ارب ڈالر سے تجاوز کرجائیں گے، کیش ریزرو ریکوائرمنٹ میں 100 بیسز پوائنٹس کمی کردی گئی اب یہ شرح 5فیصد رہ گئی۔

گورنرسٹیٹ بینک نے کہا کہ بینکوں کو اپنی جمع شدہ رقم کا زیادہ حصہ سٹیٹ بینک کے پاس رکھنا پڑتا تھااب یہ شرط 1فیصد کم کردی گئی، مرکزی بینک کے ذخائر اگست 2021 میں 20ارب 15 کروڑ ڈالر کی بلند ترین سطح پر تھے۔

محمد جمیل کا کہنا تھا کہ رواں سال سٹیٹ بینک ذخائر20 ارب 20 کروڑ ڈالر کی بلند ترین سطح کو پار کر جائیں گے، عالمی شرح سود میں کمی سے بیرونی ادائیگیوں کا حجم معمولی کم ہو کر25.7 ارب ڈالر رہ گیا ہے جب کہ بیرونی ادائیگیوں میں 7 ارب ڈالر روول اوور ہوگیا۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker