بین الاقوامی

چین کے ساتھ ڈائیلاگ” عالمی اتفاق رائے بن گیا ہے، چینی میڈیا

بیجنگ : کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے چین کا سرکاری دورہ کیا اور تعاون کی متعدد دستاویزات پر دستخط کیے۔

اتوار کے روز چینی میڈیا کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس 2026 میں "چین کے مواقع” ایک ہاٹ ٹاپک بن گیا۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ چین کے ساتھ بات چیت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ فن لینڈ کے وزیر اعظم پیٹری آرپو متعدد کمپنیوں کے ایگزیکٹوز کے ایک گروپ کی قیادت کرتے ہوئے چین کا دورہ کررہے ہیں، جس سے دو طرفہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی شدید خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔

دنیا کی توجہ چین کی طرف کیوں مرکوز ہو رہی ہے؟
یو ایس چائنا کوآپریشن فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹیو چیئرمین جان ملر وائٹ کا ماننا ہے کہ "چین نے ٹھوس اقدامات کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ کوئی بھی ملک زیرو سم گیمز میں شامل ہوئے بغیر ترقی حاصل کر سکتا ہے اور عالمی ترقی کے لیے اپنی دانش اور حل فراہم کر سکتا ہے۔” ان کے بیانات کسی حد تک اس بات کا جواب دیتے ہیں کہ دنیا بھر کے زیادہ سے زیادہ ممالک چین کے ساتھ بات چیت کے خواہاں کیوں ہیں۔ ایک مثال کے طور پر حال ہی میں ختم ہونے والے ڈیووس فورم کو لیجئے۔ فورم میں چین کی جانب سے پیش کی گئی چار تجاویز، یعنی آزاد تجارت کی مضبوطی سے حمایت، کثیرالجہتی کو مضبوطی سے برقرار رکھنا، جیت جیت تعاون پر قائم رہنا، اور باہمی احترام اور مساوی مشاورت کو برقرار رکھنا، کی بدولت عالمی برادری کو مزید احساس ہوا ہے کہ چین ایک قابل اعتماد، مستحکم اور کھلے پن کا حامل شراکت دار ہے۔
چین کی مستحکم اقتصادی کارکردگی نے سست عالمی معیشت میں اعتماد اور تحریک پیدا کی ہے۔ 2025 میں، چین کی جی ڈی پی پہلی بار 140 ٹریلین یوآن سے تجاوز کرگئی جو سال بہ سال 5.0 فیصد کا اضافہ ہے اور یہ عالمی اقتصادی ترقی کا سب سے بڑا انجن بھی ہے۔ چین کے 240 سے زائد ممالک اور خطوں کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم ہیں اور 190 سے زائد ممالک اور خطوں کے ساتھ چین کی درآمدات اور برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران، چین کی اشیاء اور خدمات کی مجموعی درآمدات 15 ٹریلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں، اور چین کی بیرونی سرمایہ کاری نے متعلقہ ممالک کو محصولات میں 300 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کا حصہ فراہم کیا ہے، اور اس سے بے شمار ملازمتیں بھی پیدا ہوئی ہیں۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ چین بیرونی دنیا کے لیے اپنے دروازے مسلسل کھول رہا ہے اور اعلیٰ معیار کی ترقی کے ثمرات دنیا کے ساتھ بانٹ رہا ہے۔
جتنا مشکل وقت ہو، اتنا ہی ہمیں بات چیت اور تعاون کو برقرار رکھنا چاہیئے۔ حال ہی میں، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سمیت دیگر اداروں نے 2026 میں چین کی اقتصادی ترقی کے لیے اپنی پیشن گوئیوں میں اضافہ کیا ہے۔ توقع ہے کہ2026 میں چین عالمی معیشت کو مزید تقویت دے گا اور "قابل اعتماد، مستحکم اور کھلے شراکت دار” کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker