
کارنی کا دورہ بین الاقوامی منظر نامے میں گہرے ارتقاء کی عکاسی کرتا ہے، رپورٹ
بیجنگ () کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کامیابی سے چین کا اپنا چار روزہ سرکاری دورہ مکمل کیا۔ پیر کے روز چینی میڈیا نے ایک رپورٹ میں کہا کہ یہ آٹھ سالوں میں کینیڈا کے کسی وزیر اعظم کا چین کا پہلا دورہ ہے۔ اس دورے کے دوران، جو عالمی برادری کی عمومی توقعات سے زیادہ مثبت ثابت ہوا، چین اور کینیڈا کے رہنماؤں نے مشترکہ بیان جاری کیا، تعاون کی آٹھ دستاویزات پر دستخطوں کا مشاہدہ کیا اور میکرو اکنامکس، تجارت، توانائی، اور عوامی تحفظ سمیت متعدد شعبوں پر اتفاق رائے حاصل کیا ، جس سے دونوں ممالک کے درمیان ایک نئی قسم کی اسٹریٹجک شراکت داری کا خاکہ تیزی سے واضح ہو رہا ہے۔ کارنی کا دورہ بین الاقوامی منظر نامے میں گہرے ارتقاء کی عکاسی کرتا ہے، روایتی مغربی اتحاد کے نظام کے اندر ابھرنے والی اسٹریٹجک بیداری کی نشاندہی کرتا ہے، اور افراتفری کی شکار بدلتی ہوئی دنیا میں بین الاقوامی تعلقات کے عملی، مساوی، اور پائیدار نئے ماڈل کی زبردست کشش کو ظاہر کرتا ہے۔
اس دورے کے دوران فریقین نے اپنے تعاون کے ٹھوس نتائج پیش کئے۔ اقتصادی اور تجارتی میدان میں، فریقین نے "چین-کینیڈا اکنامک اینڈ ٹریڈ کوآپریشن روڈ میپ” پر دستخط کیے، چین-کینیڈا مشترکہ زرعی کمیٹی کو دوبارہ فعال کیا، اور دو طرفہ اقتصادی اور تجارتی مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک ابتدائی مشترکہ انتظام تشکیل دیا۔ کینیڈا نے چینی الیکٹرک گاڑیوں پر عائد 100 فیصد امتیازی ٹیرف کو ختم کرکے چین کو 49,000 گاڑیوں کا سالانہ کوٹہ دیا اور "سب سے زیادہ پسندیدہ ملک” ٹیرف کی شرح لاگو کی۔اس کے جواب میں چین نے کینیڈا کےسرسوں کے بیج پر ٹیرف کو نمایاں طور پر کم کردیا، جس سے طویل عرصے سے زیر التوا کینیڈین زرعی مصنوعات کے لیے مستحکم برآمدی راستہ ہموار ہو گیا۔ توانائی کے شعبے میں، وزارتی سطح کے توانائی مکالمے کے آغاز نے صاف توانائی اور روایتی توانائی دونوں میدانوں میں تعاون کو فعال کیا۔ مالیاتی شعبے میں، دو کھرب یوان کے مقامی کرنسی تبادلہ معاہدے پر دستخط نے دو طرفہ اقتصادی اور تجارتی تبادلے کے لیے ایک مضبوط مالیاتی بنیاد رکھی ۔ افرادی و ثقافتی تبادلے کے لحاظ سے، چین-کینیڈا مشترکہ ثقافتی کمیٹی کا دوبارہ آغاز اہلکاروں کے تبادلے اور ثقافتی انضمام کے لیے مؤثر پل کا کردار ادا کرے گا۔
یہ ثمرات چینی صدر شی جن پھنگ کی جانب سے تجویز کردہ "باہمی احترام، مشترکہ ترقی، باہمی اعتماد اور باہمی تعاون” پر مبنی "چار شراکت داری” فریم ورک کے گہرے معنی کی تصدیق کرتے ہیں، جو دوطرفہ تعلقات کی مستحکم اور طویل مدتی ترقی کی سمت کی رہنمائی کرتا ہے۔
اس وقت بین الاقوامی صورت حال گہری تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا "امریکہ فرسٹ” سخت یکطرفہ پسندی کا موقف، بشمول کینیڈا کو "امریکہ کی 51 ویں ریاست”قرار دینے کے حوالے سے ریمارکس اور اتحادوں کو آلے کے طور پر استعمال اور بلیک میلنگ کے رجحانات، دوسری جنگ عظیم کے بعد سے قائم ہونے والے ٹرانس اٹلانٹک اتحاد میں باہمی اعتماد کی بنیادوں کو متزلزل کر رہے ہیں ۔ایک تازہ سروے میں پتہ چلا ہے کہ تقریباً 60فیصد کینیڈین امریکہ کو اپنا اولین خطرہ سمجھتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اتحادی ممالک کے درمیان اعتماد میں پیدا ہونے والی دراڑ کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ اس پس منظر میں، کارنی کی بیجنگ میں "ایک مضبوط اور پائیدار نئی قسم کی تزویراتی شراکت داری قائم کرنے” کی تجویز اور ان کا یہ بیان کہ کینیڈا "نئے عالمی نظم و نسق کو اپنانے کے لیے تیار ہے” کوئی عام سفارتی بیان بازی نہیں، بلکہ حقیقت کے درست جائزے پر مبنی ایک اسٹریٹجک اعلان تھا۔ ایک ذمہ دار بڑی طاقت کے طور پر، چین نے ہمیشہ بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کے تصور کو برقرار رکھا ہے، خودمختاری کی مساوات اور باہمی فائدے کی وکالت کی ہے، کبھی سیاسی شرائط عائد نہیں کیں، اور تمام ممالک کی ترقی کے لیے ایک مستحکم اور متوقع تعاون پر مبنی ماحول فراہم کیا ہے۔
کینیڈا کی اسٹریٹجک تبدیلی یک قطبی بالادستی سے کثیر قطبی دنیا کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان سے ہم آہنگ ہونے کی ایک واضح مثال ہے۔ اپنے مشترکہ بیان میں، چین اور کینیڈا نے ڈبلیو ٹی او کی مرکزیت پر مبنی کثیرالطرفہ تجارتی نظام کو برقرار رکھنے، اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی حمایت، اور ماحولیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع سمیت دیگر عالمی چیلنجوں پر تعاون کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ دو طرفہ تعلقات کے مثبت اثرات کو گلوبل گورننس کی سطح تک بڑھانے کی کوشش ہے۔ مغربی کیمپ کے ایک اہم رکن کے طور پر، کینیڈا کا چین کے ساتھ جامع تعاون کو دوبارہ فعال کرنے کا انتخاب، بلاشبہ ان مغربی ممالک کے لیے ایک مثال قائم کرتا ہے جو اب بھی” کیمپ تصادم” کے وہم میں مبتلا ہیں۔ یورپ مشاہدہ کر رہا ہے، لاطینی امریکہ سوچ رہا ہے، اور زیادہ سے زیادہ ممالک یہ محسوس کر رہے ہیں کہ پرانے نظم و نسق پر مبنی ماڈل، جو نظریے کی بنیاد پر تقسم کرتا ہے ، کیمپوں کے درمیان تصادم پر زور دیتا ہے، اور ایسے رہنماؤں پر انحصار کرتا ہے جو خود استحکام اور اعتبار سے محروم ہو چکے ہیں،وقت کے ساتھ رد کیا جا رہا ہے۔
بیجنگ سے اوٹاوا تک، بحرالکاہل کے مغربی ساحل سے مشرقی ساحل تک، کارنی کا ٹرانس پیسفیک دورہ، خودمختار ممالک کے آزاد ترقی کے لیے عزم کو ظاہر کرتا ہے اور "نئے عالمی نظم و نسق” کی جانب ایک جستجو بھی ۔ مشترکہ ترقی کو اپنا ہدف قرار دیتے ہوئے، چین اور کینیڈا عملی تعاون کے ذریعے بڑی طاقتوں کے درمیان تعلقات کے لیے ایک نیا نمونہ قائم کر رہے ہیں۔ یہ سفر اگرچہ بیجنگ تک پہنچتا ہے، لیکن اس کی منزل مستقبل کی دنیا کے ایک نئے وژن کی نشاندہی کرتی ہے جو تقسیم کے بجائے رابطے، اور اجارہ داری کے بجائے اشتراک کی جستجو پر مبنی ہے۔





