بین الاقوامی

چین۔کینیڈا نئے طرز کی اسٹریٹجک شراکت داری کی تعمیر کو آگے بڑھانا چاہیے، چینی صدر


بیجنگ :چین کے صدر شی جن پھنگ سے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں چین کے سرکاری دورے پر آئے ہوئے کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے ملاقات کی۔جمعہ کے روز اس موقع پر صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ گزشتہ برس اکتوبر میں جنوبی کوریا کے شہر گیونگ جو میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات سے چین۔کینیڈا تعلقات میں بہتری کا نیا آغاز ہوا۔ دونوں فریقوں کو تاریخ، عوام اور عالمی برادری کے سامنے ذمہ دارانہ رویہ اپناتے ہوئے چین۔کینیڈا نئے طرز کی اسٹریٹجک شراکت داری کی تعمیر کو آگے بڑھانا چاہیے تاکہ دوطرفہ تعلقات کو صحت مند، مستحکم اور پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالا جا سکے اور دونوں ممالک کے عوام کو بہتر طور پر فائدہ پہنچایا جا سکے۔

صدر شی جن پھنگ نے چین۔کینیڈا تعلقات کے فروغ کے لیے چار نکات پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کا احترام کرنے والے شراکت دار ، مشترکہ ترقی کے شراکت دار ، باہمی اعتماد کے شراکت دار اور باہمی تعاون کے شراکت دار بننا چاہیے ۔کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا چین کے ساتھ مضبوط اور پائیدار نئے طرز کی اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام کا خواہاں ہے۔ چین کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، سائنسی اور تکنیکی جدت میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں جو عالمی معاشی ترقی کے لیے قوت محرکہ فراہم کرتی ہیں۔انہوں نے ایک چین کی پالیسی پر کینیڈا کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا تجارت، توانائی، زراعت، مالیات، تعلیم اور موسمیاتی تبدیلی سمیت مختلف شعبوں میں چین کے ساتھ تعاون کو وسعت دینے کا خواہاں ہے۔کارنی نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو نہایت اہم ہے۔ کینیڈا چین کے ساتھ کثیرالجہتی کوآرڈینیشن کو مضبوط بنانے، کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کے وقار کے تحفظ اور عالمی امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے قریبی تعاون پر آمادہ ہے ۔ملاقات کے بعد، دونوں فریقوں نے "چین۔کینیڈا رہنماؤں کی ملاقات کا مشترکہ اعلامیہ” جاری کیا۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker