بین الاقوامی

چین اور کینیڈا کے تعلقات کی مستحکم ترقی دونوں ممالک کے مفادات کے مطابق ہے، چینی وزیر اعظم


بیجنگ : چین کے وزیرِ اعظم لی چھیانگ نے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی کے ساتھ بات چیت کی، جو چین کے سرکاری دورے پر بیجنگ میں موجود ہیں۔جمعہ کے روز چینی میڈیا کے مطابقلی چھیانگ نے کہا کہ چین اور کینیڈا کے تعلقات کی صحت مند اور مستحکم ترقی دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کے عین مطابق ہے۔ چین کینیڈا کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کی حیثیت برقرار رکھنے، سیاسی باہمی اعتماد کو بڑھانے، ایک دوسرے کے مرکزی مفادات کا احترام کرنے، اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر مشترکہ مفادات تلاش کرنے اور عملی تعاون کو مسلسل وسعت دینے کا خواہاں ہے۔

لی چھیانگ نے نشاندہی کی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی وسیع گنجائش موجود ہے، اور وہ مزید کینیڈین کمپنیوں کو چین میں سرمایہ کاری کے لیے خوش آمدید کہتے ہیں۔ چین کینیڈا کے ساتھ مل کر کثیر جہتی اور آزاد تجارت کے تحفظ اور گلوبل گورننس کی بہتری کے لیے کام کرنے کے لیے تیار ہے۔وزیرِ اعظم کارنی نے کہا کہ کینیڈا عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کرنے والے اولین مغربی ممالک میں سے ایک ہے اور سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے کینیڈا کی حکومت نے ہمیشہ ایک چین کی پالیسی کی سختی سے پاسداری کی ہے۔ کینیڈا باہمی احترام کی بنیاد پر چین کے ساتھ تجارت، توانائی، گرین اکانومی، زراعت اور عوامی سطح کے روابط جیسے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کا خواہشمند ہے۔ کینیڈا چین کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کو مضبوط کرنے کے لیے تیار ہے اور چینی کمپنیوں کو کینیڈا میں سرمایہ کاری اور کاروبار شروع کرنے کے لیے خوش آمدید کہتا ہے۔ انہوں نے "جامع اور ترقی پسند ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ معاہدے” (CPTPP) میں شمولیت کے لیے چین کی درخواست کو بھی سراہا۔بات چیت کے بعد، دونوں وزرائے اعظم نے مشترکہ طور پر تجارت، کسٹمز، توانائی، تعمیرات، ثقافت اور عوامی تحفظ سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کی دستاویزات پر دستخط کی تقریب کا مشاہدہ کیا۔اسی دن،چین کی قومی عوامی کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین چاؤ لہ جی نے بھی بیجنگ میں کینیڈین وزیرِ اعظم کارنی سے ملاقات کی۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker