
چین اور جنوبی کوریا عالمی ترقی کو فروغ دینے میں اہم ذمہ داریاں نبھاتے ہیں، شی کی جنوبی کورین ہم منصب سے گفتگو
بیجنگ () چینی صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کے ساتھ ملاقات کی، جو چین کے سرکاری دورے پر بیجنگ میں موجود ہیں۔پیر کے روز اس موقع پر شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ چین نے ہمیشہ چین- جنوبی کوریا تعلقات کو اپنی ہمسایہ سفارت کاری میں ایک اہم مقام پر رکھا ہے اور جنوبی کوریا کے ساتھ اپنی پالیسی میں تسلسل اور استحکام کو برقرار رکھا ہے۔ چین جنوبی کوریا کے ساتھ مل کر چین-جنوبی کوریا اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو صحت مند راستے پر فروغ دینے، دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود کو صحیح معنوں میں بڑھانے ،نیز خطے اور عالمی امن و ترقی میں مثبت توانائی فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین اور جنوبی کوریا علاقائی امن کو برقرار رکھنے اور عالمی ترقی کو فروغ دینے میں اہم ذمہ داریاں نبھاتے ہیں اور ان کے وسیع مشترکہ مفادات ہیں۔ دونوں ممالک کو ثابت قدمی کےساتھ تاریخ کی درست جانب کھڑا رہتے ہوئے صحیح حکمت عملی کا انتخاب کرنا ہوگا۔شی جن پھنگ کا کہنا تھا کہ چین اور جنوبی کوریا کو مشترکہ طور پر تحفظ پسندی کی مخالفت کرتے ہوئے حقیقی کثیرالجہتی پر عمل کرنا چاہئے اور ایک مساوی اور منظم کثیر قطبی دنیا اور جامع اقتصادی عالمگیریت کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
لی جے میونگ نے کہا کہ جنوبی کوریا اور چین نے جاپانی عسکری جارحیت کے خلاف مل کر لڑائی کی تھی، اور جنوبی کوریا چین میں کوریا کی تحریک آزادی کے مقامات کی حفاظت کے لیے چین کا شکر گزار ہے۔ جنوبی کوریا چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اوراختلافات کو پس پشت ڈال کر دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لئے تیار ہے۔ جنوبی کوریا چین کے مرکزی مفادات اور اہم خدشات کے معاملات کا احترام کرتا ہے اور ایک چین کے اصول پر کاربند ہے۔لی جے میونگ کا کہنا تھا کہ جنوبی کوریا چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے ذریعے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے اور دونوں ممالک کے درمیان عملی تعاون کے مزید ثمرات کو فروغ دینے کا منتظر ہے۔ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تبادلوں کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ باہمی افہام و تفہیم اور اعتماد کو بڑھایا جائے۔ جنوبی کوریا عالمی خوشحالی اور ترقی میں خدمات سرانجام دینے کے لیے چین کے ساتھ کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔
بات چیت کے بعد، دونوں سربراہان مملکت نے سائنسی اور تکنیکی اختراعات، ماحولیاتی تحفظ، نقل و حمل، اور اقتصادی اور تجارتی تعاون سمیت دیگرشعبوں سے متعلق تعاون کی پندرہ دستاویزات پر دستخط کا مشاہدہ کیا۔ اسی شام، شی جن پھنگ اور ان کی اہلیہ پھنگ لی یوان نے لی جے میونگ اور ان کی اہلیہ کے لئے استقبالیہ ضیافت کا اہتمام کیا۔





