
سید منظور احمد شاہ
چیئرمین، اتحادِ اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر داری1947 میں پاک و ہند کی آزادی کے وقت، اس وقت کے وائسرائے نے 548 شاہی ریاستوں کے حکمرانوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنے عوام کی خواہشات اور جغرافیائی محل وقوع کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کر لیں۔
کشمیری مسلمانوں کے پاس پاکستان میں شامل ہونے کی دو مضبوط وجوہات تھیں: ان کی عددی برتری (آبادی کا 80 فیصد) اور جغرافیائی قربت۔ تاہم، بھارتی رہنماؤں نے ریاست کے غیر مسلم حکمران کو بھارت کے ساتھ الحاق کرنے پر مجبور کیا (جو کہ برطانوی ہند کے قانونِ آزادی کے خلاف تھا)۔ اس پر کشمیری مسلمانوں نے بغاوت کر دی، ریاست کا ایک بڑا حصہ آزاد کرا لیا اور جموں و کشمیر و گلگت بلتستان کی آزاد حکومت قائم کی۔ بھارت مداخلت کے لیے اقوام متحدہ کی طرف بھاگا، جس نے ریاست پر بھارتی دعوے کو مسترد کر دیا اور کشمیر کے حق خودارادیت کی حمایت میں مختلف قراردادیں منظور کیں۔ 5 جنوری 1949 کی قرارداد میں درج ہے ریاست جموں و کشمیر کے بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقے سے کیا جائے گا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 1951 اور 1957 سمیت مختلف قراردادوں میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کا اعادہ کیا، جیسا کہ ذیل میں درج ہے یہ مشاہدہ کرتے ہوئے کہ بھارت اور پاکستان کی حکومتوں نے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان (UNCIP) کی 13 اگست 1948 اور 5 جنوری 1949 کی قراردادوں کو قبول کر لیا ہے اور اس خواہش کا اعادہ کیا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقے سے کیا جائے گا۔ (قرارداد نمبر 91 – 30 مارچ 1951) ریاست جموں و کشمیر کا حتمی فیصلہ عوام کی مرضی کے مطابق اقوام متحدہ کے زیر اہتمام آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقے سے کیا جائے گا۔ (قرارداد نمبر 122 24 جنوری 1957)
بھارت نے ریاست میں رائے شماری کرانے پر اتفاق کیا اور اس کے رہنماؤں نے کم از کم چالیس سے زائد بار اس سلسلے میں وعدے کیے۔ تاہم، وہ صرف وقت حاصل کرنا چاہتے تھے اور اس معاملے میں مخلص نہیں تھے۔ بھارت پر جب بھی دباؤ بڑھا گیا تو انہوں نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع کیے لیکن یہ محض وقت گزاری کی حکمت عملی تھی۔
پاکستان اور بھارت نے اس مسئلے پر 4 جنگیں لڑیں اور ہر بار بھارت نے مسئلہ حل کرنے کا وعدہ کیا، لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کیا۔کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد میں حد درجہ تاخیر، ریاست میں بار بار کے ڈھونگ اور فرضی انتخابات، اور 1980 کی دہائی میں دنیا بھر میں آنے والی جمہوریت کی لہر نے بھارتی مقبوضہ کشمیر (IOK) کے عوام کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا، جو اپنے حق خودارادیت کے لیے احتجاج کر تے آ رہے ہیں۔ چونکہ بھارت نے طاقت کے ذریعے ان کے جذبہ آزادی کو کچلنے کی کوشش کی، اس لیے کشمیری ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو گئے۔
کشمیریوں کے عزم کو توڑنے کے لیے بھارت نے سات لاکھ سے زائد مسلح فوجی تعینات کیے ہیں جنہیں کالے قوانین کے تحت لامحدود اختیارات حاصل ہیں۔ انہوں نے وہاں تباہی مچا دی ہے۔ نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو بھارتی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں مثلاً ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس ,واچ اور دیگر نے دستاویزی شکل دی ہے یورپی پارلیمنٹ کے وفد نےجب مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا، تو کشمیر کو "دنیا کی خوبصورت ترین جیل” قرار دیا۔ اپنی رپورٹ میں وفد نے کشمیریوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی کی غیر مبہم الفاظ میں مذمت کی، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کو رسائی دینے پر زور دیا اور بھارتی حکومت سے تمام قیدیوں کی بہتر نگرانی کی اپیل کی۔ وفد نے یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے کشمیر پر ایک نمائندہ
(Rapporteur) مقرر کرنے کی بھی سفارش کی۔ اقوام متحدہ نے کشمیر پر انسانی حقوق کے احوال درج کرنے کے لیے سپیشل ریپوتیر کا تققر بھی کیا ہے جس نے اج تک بھارتی حکومت کو کی خطوط لکھے ہیں جن مین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئ اور مطالبہ کیا گیا کہ بھارت انسانی حقوق کی بے حرمتی روکے بھارتی رہنما عام طور پر بین الاقوامی برادری کو دھوکہ دینے کے لیے گمراہ کن بیانات دیتے ہیں۔ کبھی وہ کشمیریوں پر دہشت گردی کا الزام لگاتے ہیں، حالانکہ اقوام متحدہ کا چارٹر اور انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ 1948 عوام کو اپنے حق خودارادیت کے لیے لڑنے کی اجازت دیتا ہے۔ لہٰذا، کشمیریوں کی تحریکِ آزادی کو دہشت گردی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جہاں تک سرحد پار دہشت گردی کے الزام کا تعلق ہے، پاکستان نے بارہا لائن آف کنٹرول (LOC) پر اقوام متحدہ کے مبصرین کا کردار بڑھانے کی تجویز دی ہے، لیکن بھارت نے اتفاق نہیں کیا۔ مقبوضہ علاقے میں باعزت شہیدوان کی تدفین اور مسلسل بڑھتے ہوئے قبرستان بھی اس مقامی تحریک کی ازادی کی
حقانیت کی گواہی دیتے ہیں۔ مزید برآں، کوئی بھی غیر ملکی سرپرستی میں چلنے والی تحریک 38 سال تک اتنے جوش اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ جاری نہیں رہ سکتی۔ مختلف بھارتی اور بین الاقوامی تجزیہ نگاروں نے بھی بھارتی دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔بھارت تیسرے فریق کی مداخلت کے خلاف ہے اور یہ موقف رکھتا ہے کہ مسئلہ شملہ معاہدے کے تحت دو طرفہ طور پر حل کیا جا سکتا ہے۔ شملہ معاہدے پر 2 جولائی 1972 کو دستخط ہوئے تھے، لیکن بھارت نے گزشتہ 53 سالوں میں اسے حل کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا، بلکہ پاکستان کی تمام پیشکشوں کو ٹھکرا دیا ہے۔ مزید یہ کہ شملہ معاہدہ نہ تو کشمیر کی متنازع حیثیت کو تبدیل کرتا ہے اور نہ ہی اقوام متحدہ کے کردار کو خارج کرتا ہےمعاہدے کا پیرا 1(i): کہتا ہے کہ فریقین کے تعلقات اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہوں گے۔ پیرا 1(ii): پرامن تصفیہ کے لیے اقوام متحدہ کے کردار کو خارج نہیں کرتا پیرا 5 دونوں ممالک کے تسلیم شدہ موقف کا تحفظ کرتا ہے اور لائن آف کنٹرول کو بین الاقوامی سرحد سے الگ رکھتا ہے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 34 اور 35: سلامتی کونسل کو کسی بھی تنازع کی تحقیقات کا اختیار دیتے ہیں،
جو کسی بھی دو طرفہ معاہدے کے تابع نہیں ہے آرٹیکل 103 چارٹر کے تحت ذمہ داریاں دو طرفہ معاہدے کی ذمہ داریوں پر مقدم ہیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کے مظالم اور بھارت کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت نے جنوبی ایشیا کو دنیا کے خطرناک ترین مقامات میں سے ایک بنا دیا ہے، جیسا کہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے کہا ہے کہ متنازعہ مسلہ کشمیر عالمی امن کے خطرہ ہے جسے حل ہعنا چاہے ,موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثی کی پیشکش کی جسے پاکستان نے قبول کیا مگر بھارت نے مسترد کر دیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان اور بھارت پر مسلہ کشمیر حل کرنے پر زور دیا ہے ساتھ ہی اپنی ثالثی کی خدمات بار ہا پیش کی ہیں اور 5 اگست 2019 کے بعد تقریباً تمام عالمی رہنماؤں نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ مین 2019 کے بعد سے اب تک مسلہ کشمیر پر 3 عالمی اجلاس منعقد کیے جا چکے ہیں اب
بھارت، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست کے لیے کوشاں ہے، اسے کشمیر پر ان قراردادوں کی یاد دہانی کرانی چاہیے جن کی وہ مسلسل خلاف ورزی کرتا آ رہا ہے۔ اسی طرح، عالمی برادری کو بھی اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داری پہچاننی چاہیے۔
اگر عراق، کوسوو، مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان پر قراردادوں پر عمل ہو سکتا ہے، تو کشمیر پر کیوں نہیں دنیا سکڑ چکی ہے اور ایک علاقائی تنازع پوری دنیا کو لپیٹ میں لے سکتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ بھارت اور پاکستان دونوں جوہری طاقتیں ہیں اور حال ہی میں مئی 2025 میں چار روزہ جنگ لڑ چکے ہیں، جس میں دنیا بال بال جوہری تصادم سے بچی۔ لہٰذا، عالمی برادری کو کشمیریوں کی حالتِ زار اور کشمیر پر ممکنہ جوہری جنگ کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ کشمیری اپنے خون سے اپنی دکھ بھری داستان لکھ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ، مغربی طاقتوں، چین اور روس کو آگے بڑھ کر کشمیریوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو روکنا چاہیے۔ ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ نے بہت درست کہا تھاحتمی المیہ برے لوگوں کا ظلم و ستم نہیں، بلکہ اچھے لوگوں کی اس پر خاموشی ہے۔”





