
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک تازہ رپورٹ میں طالبان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا گیا ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو رہی۔
رپورٹ میں طالبان کے مؤقف کو ’’ناقابلِ اعتبار‘‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ ہمسایہ ممالک تیزی سے افغانستان کو علاقائی عدم استحکام کا سبب سمجھنے لگے ہیں۔
اقوام متحدہ کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی 16ویں رپورٹ کے مطابق طالبان مسلسل اس بات سے انکار کرتے رہے ہیں کہ افغانستان میں کسی دہشت گرد گروہ کی موجودگی ہے یا وہاں سے سرحد پار حملے کیے جا رہے ہیں، تاہم یہ دعویٰ حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داعش خراسان، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ، ترکستان اسلامک پارٹی اور دیگر شدت پسند گروہ افغانستان میں موجود ہیں اور بعض گروہوں نے افغان سرزمین کو بیرونی حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق القاعدہ طالبان کے ساتھ قریبی روابط رکھتی ہے اور کئی افغان صوبوں میں اس کی موجودگی برقرار ہے، جہاں اسے تربیت اور تنظیم نو کے مواقع میسر ہیں۔ دوسری جانب داعش خراسان کو طالبان کا اہم مخالف قرار دیا گیا ہے، جس کے خلاف کارروائیوں کے باوجود گروہ حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی لیبی فوجی سربراہ سے ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق
راولپنڈی: (آئی پی ایس) چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے لیبیا کا سرکاری دورہ کیا جہاں پاکستان اور لیبیا کے درمیان دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کو لیبیا پہچنے پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، انہوں نے لیبی کمانڈر ان چیف خلیفہ حفتر سے ملاقات میں دفاعی تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر دونوں ملکوں کی عسکری قیادت کے درمیان انسداد دہشت گردی، صلاحیت سازی اور تربیتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں علاقائی سلامتی اور باہمی دلچسپی کے امور پر بھی گفتگو ہوئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق لیبی کمانڈر خلیفہ حفتر نے پاک فوج کی پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ دفاعی تعلقات کو وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔





