بین الاقوامی

سانائے تاکائیچی کو اپنے غلط بیانات کو جلد از جلد واپس لینا چاہیے، جاپانی سیاسی شخصیات

ٹوکیو:جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی کے حالیہ غلط بیان پر جاپان میں شدید تنقید جاری ہے۔جاپان کی سابق سینیٹر کیکو شیگیکو کا کہنا ہے کہ تاکائیچی کے بیانات نہ صرف خطے میں امن کے لیے خطرہ ہیں بلکہ جاپان کے لیے ناقابل برداشت خطرات بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ بیانات دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہیں ۔ ہمارے نزدیک وہ وزیر اعظم کے عہدے کی اہل نہیں رہیں۔

ان بیانات کے نتائج انتہائی سنگین ہیں۔ ایسے بیانات ہرگز نہیں دیے جانے چاہئیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ تاکائیچی جلد از جلد اپنے بیانات واپس لیں۔چین جاپان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ کیکو شیگیکو نےکہا کہ تاکائیچی کے بیانات کی وجہ سے جاپانی معیشت کو منفی اثرات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جاپان معاشی طور پرچین پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، اور اب چینی سیاحوں کی آمد میں کمی، کروز جہازوں کے دوروں کی منسوخی، اور چینی پروازوں میں کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے ہوٹل جیسے شعبے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ شیگیکو نے خبردار کیا کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو جاپانی معیشت تباہ ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوستانہ تعلقات کے ذریعے تجارت اور افراد کے تبادلے کو برقرار رکھنا چاہیے تھا تاکہ چین اور جاپان دونوں فائدہ اٹھا سکیں۔ یہی وزیر اعظم کا حقیقی فرض ہے۔سانائے تاکائیچی کے غلط بیانات کے خلاف جاپان بھر میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ 29 نومبر کو، کچھ جاپانی شہریوں نے ٹوکیو میں ایک بار پھر احتجاجی مظاہرہ کیا اور تاکائیچی سے تائیوان کے حوالے سے اپنے غلط بیانات واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker