
امریکی وفاقی حکومت کا شٹ ڈاؤن اپنے 24ویں دن میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ عارضی فنڈنگ بل کی منظوری کانگریس میں بار بار رکاوٹوں کا شکار ہے۔
سی این این نے 23 اکتوبر کو ایک تصویر شائع کی جس میں دکھایا گیا کہ حکومت کے اس طویل شٹ ڈاؤن کے نتیجے میں امریکی معاشرے کے مختلف شعبوں پر منفی اثرات مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔
فضائی سفر کے شعبے میں، حکومتی شٹ ڈاؤن کے طویل ہونے سے ایئر ٹریفک کنٹرولرز کی شدید کمی واقع ہو چکی ہے، جس کے باعث واشنگٹن ڈی سی، نیویارک، ہیوسٹن سمیت متعدد شہروں کے ائیرپورٹس پر پروازوں میں بڑی تاخیر ہو رہی ہے، اور کئی مقامات پر ائیرپورٹ آپریشنز بھی متاثر ہوئے ہیں۔
اسی طرح، وہ افراد جو گھروں کی خریداری کے لیے وفاقی حکومت کے تعاون سے چلنے والے قرضہ جاتی پروگراموں پر انحصار کرتے ہیں، اب مشکل میں ہیں کیونکہ شٹ ڈاؤن کے باعث ان قرضوں کی درخواستوں کی کارروائی مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے۔
عدلیہ کے شعبے میں بھی اثرات سامنے آئے ہیں جبکہ حکومتی شٹ ڈاؤن کے نتیجے میں دیگر متعدد مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں ۔مزید برآں، پانچ لاکھ سے زائد وفاقی ملازمین اس ہفتے اپنی مکمل تنخواہیں وقت پر حاصل نہیں کر سکے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، امریکی وائٹ ہاؤس نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر شٹ ڈاؤن چوتھے ہفتے میں جاری رہا تو آئندہ ماہ مہنگائی کے سرکاری اعداد و شمار جاری نہ ہو سکیں گے ، اور یہ پچھلے ستر برسوں میں پہلی مرتبہ ہوگا کہ امریکہ ایسی صورتِ حال سے دوچار ہوگا۔





