بین الاقوامی

امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن 17 ویں روز میں داخل ہو نے جا رہا ہے

امریکی سینیٹ نے دسویں بار عارضی تخصیص ایکٹ پر ووٹ دیا، لیکن یہ پھر بھی منظور نہیں ہوا ۔ امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن 17ویں دن میں داخل ہو جائے گا۔ امریکی میڈیا کے اندازوں کے مطابق اس سے ایک نیا ’تاریخی ریکارڈ‘ قائم ہو گا۔ امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن کے 16 دنوں کے دوران اس کے مختلف نتائج سامنے آئے، جن میں اہم اقتصادی اعداد و شمار کا تاخیر سے جاری ہونا، معیشت کو نقصان پہنچانا اور یہاں تک کہ امریکی ڈالر کی حیثیت کا کمزور ہونا شامل ہے۔

تاہم، ایک ہی وقت میں، ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کے درمیان باہمی اختلافات جاری ہیں۔

نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ شٹ ڈاؤن کے بعد سے دو ہفتوں میں، امریکی حکومت نے ملک بھر میں 200 سے زائد منصوبوں کے فنڈز کو منجمد یا منسوخ کر دیا ہے، جن کی کل رقم تقریباًً 28 بلین ڈالر ہے۔ مندرجہ بالا پروجیکٹس بنیادی طور پر ڈیموکریٹک پارٹی کے زیر انتظام ریاستوں اور شہروں میں موجود ہیں ، اور ان میں صاف توانائی کی ترقی، پاور گرڈ کی تبدیلی، نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ اور دیگر پہلو شامل ہیں۔

امریکی سکریٹری خزانہ بینسن نے 15 اکتوبر کو ایک بار پھر انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل حکومتی شٹ ڈاؤن سے ہر روز امریکی معیشت کو تقریباًً 15 بلین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker