
اسلام آباد(آئی پی ایس) بھارتی آبی جارحیت جاری ہے، انڈیا نے ایک بار پھر دریائے جہلم میں پانی چھوڑ دیا۔
ہٹیاں بالا دریائے جہلم مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولا کے سرحدی قصبہ اوڑی سے آزاد کشمیر کے سرحدی قصبہ چکوٹھی، چناری میں داخل ہوتا ہے، چکوٹھی سے آزاد کشمیر میں داخل ہونے والے دریائے جہلم کے پانی میں آج دوسری مرتبہ تقریبا سات فٹ کا اضافہ ہوا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق دریائے جہلم میں پانی کا ریلا ایک بار پھر دارالحکومت مظفرآباد کی طرف رواں دواں ہے، چناری اور گردونواح میں مرد، خواتین اور بچے دریا کے کنارے جانوں کو خطروں میں ڈال کر اس وقت بھی لکڑیاں پکڑنے میں مصروف ہیں۔
دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ پر غیر معمولی سیلاب
ستلج دریا میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر غیر معمولی سطح کا سیلاب آگیا، جی ایس والا کے مقام پر بہاؤ 3.5 لاکھ کیوسک سے تجاوز کرگیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بارشوں اور بھارت کی جانب ممکنہ سیلابی ریلوں کے اخراج سے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، قصور اور ملحقہ علاقوں میں انتظامیہ اور ریسکیو ادارے کو ہائی الرٹ کردیا گیا۔
1955ء میں اتنا بڑا ریلا ستلج سے گزرا تھا، قصور شہر کو بچانے کے لیے آر ار اے ون کو توڑنا پڑرہا ہے، عرفان کاٹھیا
اس حوالے سے ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید اور ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی نے پریس کانفرنس بھی کہی۔ عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ دریائے ستلج 2 لاکھ 61 ہزار کیوسک پر چل رہا تھا اب ساڑھے تین لاکھ کیوسک تک پہنچ گیا ہے، 1955ء میں اتنا بڑا ریلا یہاں سے گزرا تھا، قصور شہر کو بچانے کے لیے آر ار اے ون کو توڑنا پڑرہا ہے، جن آبادیوں میں پانی جاسکتا ہے وہاں سے مقامی لوگوں کا انخلا کیا جارہا ہے۔
انہوں ںے کہا کہ ہیڈسلیمانیکی کے مقام پر بھی پانی کا بہاؤ بڑھ رہا ہے، آئندہ دو روز میں وہاں پانی کی سطح مزید بلند ہوگی، شاہدرہ کے مقام پر پانی کی سطح کم اور ہیڈ بلوکی کے مقام پر بڑھ رہی ہے، اوکاڑہ، ساہیوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ انتظامیہ نے دریا کے نشیبی علاقوں سے لوگوں کا انخلا مکمل کرلیا ہے، چناب میں اس کی تاریخ کے اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیلابی پانی منڈی بہاالدین کے 30 سے 40 دیہات سے گزرتا ہوا واپس دریا میں جائے گا، جھنگ شہر کو بچانے کے لیے ریواز ریلوے برج کو توڑا گیا ہے اس سے ڈیڑھ لاکھ کیوسک تک پانی کی کمی آئی، ہیڈ تریموں پر پانی کا بہاؤ کم ہورہا ہے لیکن ڈاؤن اسٹریم پر پانی کی سطح بلند ہوگی، این ایچ اے جھنگ شور کوٹ روڈ کو بھی توڑا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے تین بڑے دریا سپر فلڈ کی لپیٹ میں ہیں اور تاحال صوبے میں ابھی تک 28 اموات رپورٹ ہوئی ہیں، زیادہ اموات گوجرانوالہ ڈویژن میں فلیش اور اربن فلڈنگ کے دوران ہوئیں، اب تمام توجہ ستلج پر مرکوز ہیں، آنیوالے چند گھنٹے قصور اور اس سے ملحقہ علاقوں کے لیے اہم ہیں۔