بین الاقوامی

ایران کی جانب سے جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے ” پابندیوں کی تیزی سے بحالی ” کے طریقہ کار کے آغاز کی سخت مخالفت اور مذمت


تہران:ایرانی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے تین یورپی ممالک کی جانب سے سلامتی کونسل میں قرارداد نمبر 2231 کے حوالے سے غیر قانونی نوٹس جمع کرانے کے عمل کی سخت مخالفت اور مذمت کی ہے ۔ بیان میں کہا گیاہے کہ یہ غیر منصفانہ عمل ” جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن میں تنازعات کے حل کے میکانزم کے خلاف ہے اور قرارداد 2231 کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ایران نے متعدد بار زور دیا ہے کہ جرمنی فرانس اور برطانیہ کے پاس "پابندیوں کی تیزی سے بحالی ” کے میکانزم کو اختیار کرنے کا نہ تو کوئی قانونی حق ہے اور نہ ہی اخلاقی اختیار۔ لہٰذا، ان کا جمع کرایا گیا نوٹس غیر موثر اور کسی بھی قانونی اثر سے عاری ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ جو تنازع حل کرنے کا میکانزم ایران جوہری معاہدے کے تحت قائم کیا گیا تھا وہ اس فریم ورک کا لازمی حصہ ہے، جسے ایک کثیر المراحل مشاورتی عمل کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا تاکہ کسی بھی فریق کے حقوق کے غلط استعمال کو روکا جا سکے، اور خاص طور پر جرمنی، فرانس اور برطانیہ جیسے ممالک جنہوں نے ابھی تک اپنے وعدوں کو پورا نہیں کیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ تین یورپی ممالک کا یہ فیصلہ ایران اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے درمیان جاری تعامل اور تعاون کے عمل کو شدید متاثر کرے گا۔ ایران اس اشتعال انگیز اور غیر ضروری کشیدگی کا مناسب جواب دے گا۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker