
اسلام آباد : جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان محمد رفیق ڈار نے کہا ہے کہ لبریشن فرنٹ کے چیئرمین اور ریاست جموں کشمیر کے مقبول قومی رہنما محمد یاسین ملک بھارتی حکومت کی سیاسی انتقام گیری کا بدترین نشانہ بنے ہوئے ہیں۔
بھارتی عدالت نے 25 مئی 2022ء کو من گھڑت مقدمات کے تحت یاسین ملک کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جسے اب نریندر مودی کی حکومت پھانسی کی سزا میں بدلنے پر تُلی ہوئی ہے۔
ترجمان کے مطابق یہ اقدام کھلی ناانصافی اور اقوام عالم کے لئے چشم کُشا ہے۔ترجمان نے کہا کہ یاسین ملک ریاستی عوام کے حق خودارادیت اور آزادی کی جدوجہد کے علمبردار ہیں جنہیں عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔
بھارت دراصل اُن کی عوامی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔یاسین ملک کے حق میں آواز بلند کرنے اور بھارتی حکومت کے غیر جمہوری اقدامات کو دنیا کے سامنے لانے کے لئے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ 26 اگست 2025ء بروز منگل دوپہر اڑھائی بجے اسلام آباد ہوٹل میں "سیو یاسین ملک کانفرنس” منعقد کرے گا۔
اس کانفرنس میں آرپار سیاسی و صحافتی شخصیات کے ساتھ انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کے نمائندگان بھی شریک ہوں گے۔بیان کے مطابق کانفرنس کی تیاریوں کے لئے مرکزی وائس چیئرمین سلیم ہارون کی سربراہی میں انتظامی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ کانفرنس میں شرکاء یاسین ملک اور دیگر اسیران کے حق میں قابلِ عمل تجاویز پیش کریں گے اور قومی سطح پر اہم پروگراموں کا اعلان متوقع ہے۔