
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 58 ویں اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں اسرائیل سے غزہ کی پٹی میں نسل کشی روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قرارداد 27 ووٹوں کی حمایت اور 4 کی مخالفت کے ساتھ منظور ہوئی، جبکہ 16 ممبران نے اس میں حصہ نہیں لیا۔ قرارداد میں اسرائیل پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی گئی اور اس سے معاہدے کو مکمل طور پر نافذ کرنےکا مطالبہ کیا گیا۔قرارداد میں اسرائیلی اہلکاروں کی جانب سے نسل کشی کو ہوا دینے والے بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا، جبکہ اسرائیل سے "نسل کشی کی روک تھام کی قانونی ذمہ داری کو پورا کرنے” کا مطالبہ کیا گیا۔
قرارداد میں اسرائیل پر غزہ کی پٹی میں انسانی امداد تک رسائی روکنے اور شہریوں کو بنیادی ضروریات سے محروم کرنے کی مذمت کی گئی۔ اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ انسانی امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی یقینی بنائے، غزہ کے فلسطینیوں کو بنیادی ضروریات کی فوری بحالی کو یقینی بنائے، اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی کے تمام علاقوں میں واپس آنے کی اجازت دے۔ قرارداد میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ایک "مستقل بین الاقوامی منصفانہ اور آزاد میکانزم” قائم کرنے کی اپیل بھی کی گئی ہے جو تنازعے میں "بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین ترین جرائم کے مرتکب افراد” کی تحقیقات اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔