بین الاقوامی

امریکہ کی جانب سے تجارتی شراکت داروں پر ریسیپروکل ٹیرف کے نفاذ پر متعدد ممالک کے سیاستدانوں کا رد عمل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں نام نہاد "ریسیپروکل ٹیرف” سے متعلق دو انتظامی احکامات پر دستخط کیے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ امریکہ اپنے تجارتی شراکت داروں پر 10 فیصد کا ” کم سے کم بنیادی ٹیرف” مقرر کرے گا جبکہ کچھ مخصوص تجارتی شراکت داروں پر اس سے بھی زیادہ ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔

اس اقدام کے جواب میں متعدد ممالک کے رہنماؤں نے فوری طور پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اس کی مخالفت کی۔ مقامی وقت کے مطابق 2 اپریل کی شام، آئرلینڈ کے وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے کہا کہ وہ یورپی یونین سے امریکہ درآمد ہونے والی مصنوعات پر 20 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے امریکی فیصلے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئرلینڈ کھلی اور آزاد تجارت پر یقین رکھتا ہے، اور ٹیرف کا نفاذ عالمی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔ یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان یومیہ چار اعشاریہ دو بلین یورو سے زائد مال اور خدمات کی تجارت ہوتی ہے، اس لیے ٹیرف کا اضافہ بے بنیاد ہے۔ ان گہرے تجارتی تعلقات کو نقصان پہنچانا کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔ ٹیرف مہنگائی کا باعث بنیں گے، بحر اوقیانوس کے دونوں اطراف کے عوام کو نقصان پہنچائیں گے، اور روزگار کو خطرے میں ڈالیں گے۔

مارٹن نے کہا کہ آئرلینڈ اپنے یورپی یونین کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس صورتحال کا جائزہ لے گا۔ ان کا خیال ہے کہ یورپی یونین کا ردعمل سوچ سمجھ کر ہونا چاہیے، اور لیا جانے والا کوئی بھی اقدام اعتدال پسندی پر مبنی ہونا چاہئے جو کاروبار، کارکنوں اور شہریوں کے مفادات کا تحفظ کرے۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اب بات چیت کا وقت ہے، اور ان کا ماننا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے پیشرفت ہی واحد دانشمندانہ انتخاب ہے۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker