
بیجنگ : چائنا پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے مشرقی تھیٹر کمانڈ نے آبنائے تائیوان کے وسطی اور جنوبی پانیوں میں "آبنائے تھنڈر -2025 اے” مشق کا اہتمام کیا۔اسی دن تائیوان جزیرے کے مشرقی پانیوں میں بحری اور فضائی یونٹس کے تعاون سے طیارہ بردار بحری جہاز شانڈونگ ٹاسک گروپ کو بھی فوجی مشقوں میں تعینات کیا گیا۔
پی ایل اے کے یہ اقدام لائی چھنگ ڈہ انتظامیہ کے تواتر سے آنے والے شر پسند بیانات اور علیحدگی پسندی کے طرز عمل کا ایک اور طاقتور جواب ہے۔ چائنیز اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف تائیوان اسٹڈیز کے محقق چھن گوئی چھنگ کا کہنا ہے کہ "آبنائے تھنڈر -2025 اے” مشق مزید مضبوط جنگی صلاحیت اور عملی جنگی نوعیت کا حامل ایک طاقتور انتباہ ہے۔
قانونی نقطہ نظر سے قاہرہ اعلامیہ اور پوٹسڈیم اعلامیے جیسے بین الاقوامی قانونی دستاویزات نے تائیوان کے خطے پر چین کے اقتداراعلی کی واضح وضاحت کی ہے۔ایک چین کا اصول بین الاقوامی برادری کا عمومی اتفاق رائے اور بین الاقوامی تعلقات کا بنیادی اصول ہے۔ بیرونی قوتوں کی مداخلت اور تخریب کاری کی وجہ سے آبنائے تائیوان کے دونوں اطراف اس وقت مکمل طور پر ایک نہیں ہو سکے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ مین لینڈ اور تائیوان ایک چین سے تعلق رکھتے ہیں، اور چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت نہ کبھی تقسیم ہوئی ہے اور نہ ہی تقسیم کی جا سکتی ہے –
یہ بھی حقیقت ہے کہ تائیوان کا معاملہ چین کا اندرونی معاملہ ہے اور جو کوئی بھی تائیوان کی علیحدگی کی حمایت کرتا ہے وہ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہےاور آبنائے تائیوان میں استحکام کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ تائیوان کی علیحدگی پسند قوتیں جتنی زیادہ سرگرم ہوں گی،ان کے گرد گھیرا اتنا ہی سخت ہو گا ۔
وہ بیرونی قوتیں جو لائی چھنگ ڈہ سمیت علیحدگی پسندوں کی حمایت کرتی ہیں اگر وہ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت جاری رکھیں گی تو لامحالہ ان کے خلاف جوابی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔