
بیجنگ :چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے روس کے سرکاری دورے کے دوران "رشیا ٹوڈے” انٹرنیشنل میڈیا گروپ کا خصوصی انٹرویو دیا ۔ وانگ ای نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ اور صدر پیوٹن کی قیادت میں، چین اور روس نے سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو مسلسل گہرا کیا ہے، جو نہ صرف تاریخی ترقی کے منطق سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے بلکہ اس میں مضبوط اندرونی قوت بھی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات دونوں ممالک کے درمیان پرامن بقائے باہمی اور باہمی ترقی کے لیے فائدہ مند ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کی کثیر قطبی ترقی اور بین الاقوامی تعلقات کے جمہوری عمل کو فروغ دینے میں بھی معاون ہیں ۔وانگ ای نے کہا کہ چین اور روس کے موجودہ تعلقات کی تین بڑی خصوصیات ہیں: پہلی یہ کہ یہ تعلقات ہمیشہ دوستانہ رہے ہیں ۔ گزشتہ 70 سالوں سے، ان تعلقات نے مضبوط اعتماد حاصل کیا ہے ، اس کی بنیادیں گہری ہوئی اور ان میں لچک پیدا ہوئی ہے۔دوسری خصوصیت یہ ہے کہ مساوی سلوک اور تعاون پر مبنی مشترکہ مفادات میں چین اور روس کے تعلقات کے معنی اور دائرہ کار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس نے دونوں ممالک کے عوام کو حقیقی فوائد پہنچائے ہیں اور دنیا کو چین اور روس کے تعاون کے بڑے فوائد سے مستفید ہونے کا موقع دیا ہے۔
تیسری خصوصیت یہ ہے کہ چین روس تعلقات مخالف اتحاد اور تصادم نہ کرنے اور کسی تیسرے فریق کو نشانہ نہ بنانے کے اصول پر قائم ہیں۔ یہ تعلقات نہ صرف دنیا کے کسی بھی ملک کے لیے خطرہ نہیں بلکہ کسی بھی تیسرے فریق کی مداخلت یا اثر سے بھی آزاد ہیں۔ یہ تعلقات نہ صرف موجودہ عہد میں نئے قسم کے بڑے ممالک کے تعلقات کی ایک مثال ہیں بلکہ متغیر اور غیر مستحکم دنیا میں ایک اہم استحکام کی قوت بھی ہیں۔اپنے انٹرویو میں چینی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا میں مساوی اور منظم کثیر قطبیت کو فروغ دینا چاہیے، شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس جیسے کثیر الجہتی پلیٹ فارمز پر گہرے تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے، گلوبل ساؤتھ کی یکجہتی اور خود انحصاری کے عہد کا طاقتور پیغام بلند کرنا چاہیے، اور انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے مقصد کی طرف مسلسل آگے بڑھنا چاہیے۔