بین الاقوامی

مشترکہ طور پر امن اور سلامتی کے عالمی ماحول کا تحفظ کیا جائے، چینی صدر

ہمیں تبادلوں کے ذریعے تہذیبی رکاوٹوں کو دور کرنا چاہیے، شی کا خطاب
جو ہا نسبر گ ()
چین کے صدر شی جن پھنگ نے کہا ہے کہ چین اور افریقہ کو اپنے ترقیاتی وژن کو عملی جامہ پہنانے اور سازگار ماحول پیدا کرنے کے لئے مل کر کام کرنا چاہئے، مشترکہ طور پر ایک منصفانہ اور معقول بین الاقوامی نظام کو فروغ دینا چاہیے، حقیقی کثیر الجہتی پر عمل کرنا چاہیے، استعمار کی وراثت اور ہر طرح کے تسلط پسندانہ اقدامات کے خلاف واضح موقف اختیار کرنا چاہیے، اپنے بنیادی مفادات کے تحفظ میں ایک دوسرے کی حمایت کرنا چاہیے، ترقی پذیر ممالک کی منصفانہ آواز کو راستبازی سے بلند کرنا چاہیے، اور بین الاقوامی نظام کی ترقی کو زیادہ منصفانہ اور بہتر سمت میں فروغ دینا چاہیے۔ان خیا لات کا اظہار صدر شی نے چین افریقہ سربراہی مکالمے میں شرکت کرتے ہو ئے خطاب میں کیا ۔ صدر شی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ضروری ہے کہ مشترکہ طور پر امن اور سلامتی کے عالمی ماحول کا تحفظ کیا جائے ، مشترکہ طور پر ایک کھلی اور جامع عالمی معیشت کی تعمیر کی جائے، ایک کھلی عالمی معیشت کی تعمیر کو فروغ دیا جائے ، ترقی پذیر ممالک کو صنعتوں کی بین الاقوامی تقسیم میں بہتر طور پر ضم کرنے کے قابل بنایا جائے ، اور معاشی عالمگیریت کے ثمرات کو شیئر کیا جائے۔ چین کے صدر نے کہا کہ ہمیں تہذیبی تبادلوں کے ذریعے تہذیبی رکاوٹوں کو دور کرنا چاہیے، تہذیبوں کے درمیان رواداری اور باہمی سیکھ کے عمل کو فروغ دینا چاہیے اور انسانی ترقی میں مزید کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جدیدیت کے راستے متنوع ہیں۔ افریقہ کی ترقی کے لیے کس قسم کا راستہ سب سے زیادہ موزوں ہے اس کا فیصلہ کرنے کا حق افریقی عوام کا ہے ۔ یکجہتی کو فروغ دینا جدید کاری کا وہ راستہ ہے جسے افریقی ممالک اور ان کے عوام نے آزادانہ طور پر منتخب کیا ہے ۔ چین نے ہمیشہ اس کی بھرپور حمایت کی ہے اور افریقہ کی جدید کاری کے راستے پر اس کے ساتھ چلنے کو تیار ہے ۔ چینی صدر نے مزید کہا کہ مستقبل کا سامنا کرتے ہوئے، چین، افریقہ کی ترقیاتی حکمت عملی کے ساتھ ڈاکنگ کو مضبوط کرے گا، بین الاقوامی معاملات میں یک آواز ہونے اور اپنی بین الاقوامی حیثیت کو مسلسل بڑھانے میں افریقہ کی حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ چین آئندہ ماہ ہونے والے جی 20 سربراہ اجلاس میں افریقی یونین کے جی 20 کا مکمل رکن بننے کے لیے فعال طور پر کوشش کرے گا، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات پر افریقی مطالبات کو ترجیح دینے کے لیے خصوصی انتظامات کی حمایت کرے گا اور کثیر الجہتی مالیاتی اداروں سے مطالبہ کرے گا کہ وہ افریقی ممالک کی آواز میں ان کا ساتھ دیں۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ چین افریقہ عملی تعاون کے اگلے مرحلے کی منصوبہ بندی کرنے اور افریقہ کو یکجہتی اور جدیدکاری کے تیز رفتار راستے پر گامزن ہونے میں مدد کرنے کے لئے، وہ تین اقدامات تجویز کرتے ہیں : چین “افریقہ کی صنعت کاری کی حمایت کرنے کا اقدام” شروع کرےگا اور “افریقہ کی زرعی جدیدکاری میں مدد کرنے کے لئے چین کے منصوبے” کو نافذ کرےگا . موجودہ غذائی بحران سے نمٹنے اور افریقہ کی مدد کے لئے، چین ضرورت مند افریقی ممالک کو ہنگامی غذائی امداد کی ایک نئی کھیپ فراہم کرے گا، “چین-افریقہ ٹیلنٹ ٹریننگ کوآپریشن پلان” کو نافذ کرےگا۔ سائنس، تعلیم اور جدت طرازی میں افریقہ کی صلاحیت کو بڑھانے میں مدد دینے کے لئے، چین “چین-افریقہ یونیورسٹیوں کے درمیان تعاون کے منصوبے” پر عمل درآمد کرے گا اور چین-افریقہ پارٹنر ریسرچ اداروں کے 10 پائلٹ منصوبوں کا آغاز کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگلے سال ، ہم چین میں آئیندہ آنے والے چین افریقہ تعاون کے فورم کی میزبانی کریں گے ، اور چین اور افریقہ ایک بار پھر مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ چین اور افریقہ روایتی دوستی کو مزید آگے بڑھائیں گے، اتحاد اور تعاون کو گہرا کریں گے اور مختلف شعبوں میں تعاون و ترقی کو فروغ دیں گے۔ صدر شی نے کہا کہ جدیدیت کے مقصد کو فروغ دینے کے لئے چین اور افریقہ کی شراکت یقینی طور پر دونوں اطراف کے عوام کے لئے ایک بہتر مستقبل تخلیق کرے گی اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو فروغ دینے کے لئے ایک مثال قائم کرے گی۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker