بین الاقوامی

مختلف ممالک کے سابق رہنماؤں کی جانب سے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے اہم کردار کی تعریف

بیلٹ اینڈ روڈانیشیٹو، “عالمی ترقیاتی” انیشیٹو، ہمارا سب سے مضبوط ہتھیار ہیں، سا بق چئیر مین بو سنیا
بیجنگ ()
رواں سال “بیلٹ اینڈ روڈ” انیشیٹو کی 10ویں سالگرہ ہے۔ بیجنگ میں “بیلٹ اینڈ روڈ” کی 10ویں سالگرہ سے متعلق ایک بین الاقوامی سیمینار میں شریک، متعدد ممالک کے سابق رہنماوں اور اعلی عہدے داروں نے گزشتہ دس سالوں میں “بیلٹ اینڈ روڈ” انیشیٹو کے عالمی نظم و نسق بالخصوص ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی ترقی پر مرتب ہونے والے مثبت اثرات کو سراہا۔جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق
کرغزستان کے سابق وزیر اعظم جومارت اوتربایف کا ماننا ہے کہ وسط ایشیائی خطے میں حقیقی تبدیلیاں “نیا ایشیائی ریلوے انقلاب” ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ آج یورپ اور چین کے درمیان، سالانہ 16,000 سے زیادہ ٹرینز چل رہی ہیں۔ اعلیٰ معیار کی ترقی کے حصول کے لیے اس کی بہت اہمیت ہے۔
بوسنیا،ہرزیگوینا کے وزراء کی کونسل کے سابق چیئرمین زلاٹکو راگمدیا نے کہا کہ اس وقت دنیا کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کے تحت اتحاد اور تعاون، جیسا کہ “بیلٹ اینڈ روڈ” انیشیٹو، “عالمی ترقیاتی” انیشیٹو، ہمارا سب سے مضبوط ہتھیار ہیں۔ اسی وجہ سے دنیا کو چین کی اور چین کو دنیا کی ضرورت ہے۔
سربیا کے سابق صدر بورس تاڈک نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران بین الاقوامی اسٹیج پرایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے دنیا میں کثیرالجہتی پہلے سے کہیں زیادہ ہوئی ہے اور ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بہتر ماحول بنایا گیا ہے۔ “بیلٹ اینڈ روڈ” انیشیٹو سے کوئی مسئلہ یا تنازع سامنے نہیں آیا ہے۔ ان کے خیال میں اس انیشیٹو نے درحقیقت باہمی کنیکشن اور مسائل کے پرامن حل کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا ہے۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker