بین الاقوامی

چین ۔جنو بی ایشیا ایکسپو تبادلوں اور تعاون کے لئے ایک علامتی ایونٹ ہے، چینی وزارت خارجہ

ایکسپو نے 30 ہزار سے زا ئد آن لائن اور آف لائن نمائش کنندگان کو راغب کیا ہے، تر جمان
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے ساتویں چین جنوبی ایشیا ایکسپو کے بارے میں کہا ہےکہ یہ ایکسپو چین اور جنوبی ایشیائی ممالک سمیت دنیا بھر کے ممالک کے مابین تبادلوں اور تعاون کے لئے ایک علامتی ایونٹ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ایکسپو نے 85 ممالک ، خطوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے متعلقہ نمائندوں اور 30،000 سے زیادہ آن لائن اور آف لائن نمائش کنندگان کو راغب کیا جس سے جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک اور علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری کے رکن ممالک کا مکمل احاطہ ہوا ہے۔جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق

ترجمان نے پر یس کا نفر نس میں کہا کہ اس سال چین جنوبی ایشیا ایکسپو کی 10 ویں سالگرہ کے ساتھ ساتھ صدر شی جن پھنگ کے پیش کردہ “بیلٹ اینڈ روڈ” اقدام کی تجویز اور دوستانہ اور جامع سفارت کاری کے تصور کی 10 ویں سالگرہ بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران چین اور جنوبی ایشیائی ممالک نے یکجہتی اور تعاون کو مستحکم کیا ہے، مشترکہ طور پر “بیلٹ اینڈ روڈ” کی تعمیر جاری رکھی ہے، گہرے دوستانہ تبادلے کیے ہیں، اور چین جنوبی ایشیا دوستی کے دور میں ایک نیا باب رقم کیا ہے۔ وانگ وین بن نے کہا کہ چین جنوبی ایشیائی ممالک کو چین کی ترقی کے فوائد بانٹنے کے لئے خوش آمدید کہتا ہے اوراس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھانے، اتحاد اور تعاون کو مضبوط بنانے، ترقیاتی برادری کی تعمیر اور خطے کے طویل مدتی استحکام اور خوشحالی میں کردار ادا کرنے کے لئے جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ کام کرنے کے لئے تیارہے ۔

وانگ وین بن نے کہا کہ چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے ایکسپو کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چین اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان تعاون کو گہرا کرنے کے بارے میں چار تجاویز بھی پیش کیں: پہلا، تزویراتی باہمی اعتماد کو گہرا کیا جائے، دوسرا، رابطے کو گہرا کیا جائے ، چین پاک اقتصادی راہداری اور چین نیپال سرحد پار ریلوے جیسی ریڑھ کی ہڈی کی راہداریوں کی تعمیر کو فروغ دیا حائے ، تیسرا، اقتصادی اور تجارتی تعاون کو گہرا کیا جائے ، اور چوتھا، عوامی تبادلوں کو گہرا کیا۔ہمیں یقین ہے کہ ایکسپو کے تمام شرکاء اس عظیم الشان ایونٹ کے ذریعے تعاون کے مزید مواقع تلاش کرسکتے ہیں ، تعاون کے مزید نتائج تشکیل دے سکتے ہیں ، اور مشترکہ طور پر ایشیا کی ترقی اور بحالی کو فروغ دے سکتے ہیں۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker