اسلام آباد( آئی پی ایس)پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں 3 سال قید کی سزا کے بعد پہلی رات اٹک جیل میں گزاری۔

گزشتہ روز اسلام آباد کی عدالت نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو 3 سال قید کی سزا سنائی تھی، عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے جان بوجھ کر جھوٹ بولا، توشہ خانہ سے ملنے والے تحفوں کی غلط معلومات دیں جو بعد میں غلط ثابت بھی ہوگئیں، چیئرمین پی ٹی آئی کی بدنیتی کسی شک و شبے کے بغیر ظاہر ہوگئی، ان کے خلاف بھرپور شواہد موجود ہیں۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین کو تین سال قید کاٹنے کے ساتھ ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی دینا ہوگا، جرمانہ نہ دینے پر مزید چھ ماہ قید کاٹنا ہوگی۔

اسلام آباد کی سیشن عدالت کے فیصلے کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کو لاہور میں ان کی زمان پارک والی رہائش گاہ سے گرفتار کرکے اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا جہاں انہوں نے پہلی رات جیل میں گزاری۔

دوسری جانب چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی گرفتاری کی اندرونی کہانی نجی ٹی وی چینل کو معلوم ہو گئی تھی، گرفتاری کے وقت نیلے ٹریک سوٹ میں ملبوس چیئرمین پی ٹی آئی دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے۔

ذرائع نے بتایا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کرنے کیلئے پولیس زمان پارک لاہور میں واقع ان کی رہائش گاہ کے پچھلے دروازے سے داخل ہوئی، پولیس نے گارڈز کو گھر کے احاطے میں ہی روک کر عمران خان کو گرفتار کیا تھا۔