کاش آپ میرے "بابوسر” آتے

کاش آپ میرے "بابوسر” آتے

تحریر : فیض اللہ فراق

اس میں دو رائے نہیں کہ زندگی عارضی ہے، ہر ذی روح کو ایک نہ ایک دن کسی نہ کسی بہانے موت کو گلے لگانا ہے، یہ ناپائیدار سانسیں موت کی امانت ہیں، انسان چاہئے جتنا بھی طاقتور ہو مگر موت کے سامنے بے بس ہے، خدا کے منکر بھی موت سے انکاری نہیں کرسکتے مگر ایک حضرت انسان ہے جو زندگی کو دائمی سمجھتے ہوئے اپنی اوقات بھول جاتا ہے، حقائق سے انحراف کرجاتا ہے اور زندگی و مادی صورتوں میں بقا تلاش کرتا ہے۔ جب آدمی سے انسان کا لباس اتارا جائے تو پھر اس میں ایک بے رحمی باقی رہ جاتی ہے جو تمام تر انسانی اقدار کو پس پشت ڈالتے ہوئے مادی اپروچ کے رستے پہ چل پڑتی ہے۔ مادی ضروریات سے انکاری بھی ممکن نہیں کیونکہ انسان کو جینے کیلئے کچھ اسباب درکار ہوتے ہیں لیکن جب یہ ضروریات انسان سے قیمتی ہوں تو پھر انسانی معیار کے تقاضے دم توڑ جاتے ہیں ایسے میں سماجی ڈھانچے میں ایک خطرناک لالچ سرائیت کرجاتی ہے جس میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ انسانی معاشرے خدا ترسی، ہمدردی، بھلائی اور نیکی کے تصورات پر کھڑے ہوتے ہیں۔

 ملکہ کہسار کی برف پوش سڑکوں پر پھنسی ہوئی اس فیملی کی ویڈیو کو دیکھنے اور سننے کے بعد کلیجہ منہ کو آ گیا، دماغ ماوف اور دل بیٹھ سا گیا، پھول جیسے بچوں کی ڈوبتی مسکراہٹوں کو یہ بے حس معاشرہ کیسے بھول پائے گا؟، کاش یہ فیملی میرے گاوں بابوسر آتی ، انہیں کسی نے نہیں بتایا ہوگا کہ برف تو بابوسر کی وادیوں میں بھی  پڑی ہے، گلگت بلتستان کے پہاڑ بھی آج کل برف کی چادر اوڑھ  رکھی ہے، سرمائی سیاحت تو یہاں بھی عروج پر ہے، یہاں کے مکین تو ہر آنے والے کو اپنے سینے سے لگاتے ہیں، مہمان نوازی یہاں کی تہذیب ہے، یہ پہاڑی لوگ اپنی روایات کے امین ہیں۔  اپنے بچوں سمیت اجل کو لبیک کہنے والے پولیس انسپکٹر اپنی فیملی کو لیکر میری  وادی میں آتے،  میری سڑکیں اس کا استقبال کرتی اور اگر کوئی آفت آ بھی جاتی تو میرے رضا کار تیری گاڑی کو اٹھا کر لے آتے۔ میں تمہیں اپنے گھر میں رکھتا، اپنی روایتی انگیھٹی میں آگ جلا کر ننھے پھول جیسے بچوں کی سانسیں بحال کرتا، یہ سب کچھ انسانی ہمدردی میں کرتا، ہم پہاڑی لوگ ہیں جناب!  ہمارے گھر انسانیت کیلئے ہوٹل بن جاتے ہیں ، ہم مجبوریاں نہیں خریدتے ہم تو انسانیت خریدتے تھے ۔ کاش تم میرے بابوسر آتے،۔ میری وادیاں تیرے قدم بوسی کرتی، میرے برفیلے نظارے تیرے وجود میں احساس جگا دیتے ،  میرے گھر کی دیسی مکئی روٹی اور روایتی کھانوں کی خوشبو سے تیرے پھول جیسے بچوں کے ارمانوں کو دوام ملتا،۔ کاش تم میرے بابوسر آتے،۔ کاش تم میرے بابوسر آتے۔۔۔۔ برف تو یہاں بھی تھی میاں…. کیوں گئے تم موت کی وادی میں ؟ آخر کیوں چلے گئے مردہ بستی میں؟۔ تم تو پولیس محکمے میں تھے اور یہ جانتے تھے کہ اس نگری کے لوگوں میں احساس کب کا مر چکا ہے، یہاں پیسے کے ترازو میں انسان بہت چھوٹا ہے۔۔۔۔ کاش تم میرے بابوسر آتے۔۔۔۔۔۔

تبصرہ کریں:

متعلقہ خبریں