افغانستان سے آنے والے چلغورہ کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے، ٹھیکیدار نوید

jirga

وانا(حفیظ وزیر)پاک افغان بارڈر انگور اڈا میں آئے روز چلغوزے تاجر اور ایگری پارک کے ٹھیکہ دار نوید کے درمیان چپقلش جاری ہے، گزشتہ روز پاک افغان بارڈر پر ٹھیکیدار نوید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چلغوزے کی پرمٹ یعنی ٹھیکہ میں نے اوپن ٹینڈر پر 13کروڑ پر لیا کہ افغانستان سے آنے والے چلغوزے پہلے پھل ایگری پارک پروسیسنگ کے لایا جائیگا لیکن بدقسمتی سے چلغوزے تاجر افغانستان سے لانے والے چلغوزے ایگری پارک کے بجائے سیدھا لاہور یا راولپنڈی لے جاتے ہیں حالانکہ ایگری پارک میں نے مکمل پروسیسنگ یونٹ لگائے گئے ہیںلیکن تاجر برداری چلغوزے پروسیسنگ کے لیے ایگری پارک نہیںلاتے جو میرے ساتھ زیادتی ہے، کیونکہ 13کروڑ روپے میں نے ٹھیکہ لیا۔حکومت نے فی کلو 200 روپے پراسیسنگ کا کہاتھا لیکن تاجر برداری کے اصرار پر پہلا جرگہ کیا جس میں 200 کے بجائے 120 روپے پر ایگریمنٹ کیا لیکن بدقسمتی سے تاجر برداری نے ایک بار پھر ایگریمنٹ توڑتے ہوئے 75روپے دوسرا ایگریمنٹ کیا لیکن دوسرا ایگریمنٹ تاجر برداری نے بھی تھوڑتے ہوئے 65 روپے پر ایگریمنٹ کیا جس پر سارے چلغوزے تاجر نے دستحط بھی کئے لیکن بدقسمتی اس ایگریمنٹ سے پھر مکر گئے اور چلغوزے ایگری پارک پراسیسنگ کے لیے نہیںلاتے ۔اس لیے میں مجبور ہوکر روڈ پر نکلا اور افغانستان سے آنے والے چلغوزے پولیس فورس اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے پکڑ کر سیدھا پروسیسنگ کے لیے ایگری پارک لے جاتا ہوں جو کہ میرا قانونی حق ہے کیونکہ میں نے اوپن ٹینڈر پر 13کروڑ کا باقاعدہ ٹھیکہ لیا کوئی چوری چپکے سے کام نہیںکررہا ہوں۔ دوسری جانب چلغوزے تاجروں کا کہنا ہے کہ یہ غیر قانونی طور پر ٹیکس لیتے ہیںاور اس کے خلاف ہم احتجاج کرینگے اور اس غیر قانونی ٹیکس کو کبھی نہیں مانیں گے۔

تبصرہ کریں:

متعلقہ خبریں