
اسلام آباد(آئی پی ایس)پاکستان تحریک انصاف کی سینئر قیادت نے فواد چوہدری کی گرفتاری پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بغیر وارنٹ گرفتاری جمہوریت اور قانون کی بالادستی پر زوردار طمانچہ ہے ،پاکستان کیساتھ کھلواڑ نہ کریں ورنہ حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق فواد کی گرفتاری پر اپنے ردعمل میں وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی نے کہاکہ فواد چودھری کی علی الصبح بغیر وارنٹ گرفتاری اس ملک کی جمہوریت اور قانون کی بالادستی پر ایک زوردار طمانچہ ہے،کیا قصور ہے فواد کا؟کس جرم کے تحت اٹھایا گیا؟خدارا پاکستان کے ساتھ کھلواڑ بند کیا جائے،ورنہ حالات کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے۔
مرکزی سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف اسد عمر نے کہاکہ سچ کڑوا ہوتا ہے اور فواد سچ بولتا ہے،اسد عمرانکی حراست کی بس یہی ایک وجہ ہے
سینئر رہنما افتخار درانی نے کہاکہ پاکستان میں سویلین مارشل لا کا نفاظ ہوچکا ہے،ہمارے سینئر رہنما کو صبح سویرے اغوا کرنا اس ملک کی لا قانونیت کی گواہی دیتا ہے،پاکستان کو سوچی سمجھی سازش کے تحت انتشار کی طرف دھکیلنے کی سازش ہے۔
ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہاکہ فواد چوہدری کو گرفتار کر لیا گیا کہ انہوں نے الیکشن کمیشن کو منشی کہا،یہ گرفتاری سراسر شرمناک حرکت ہے،ملک میں فسطائیت اپنی بدترین سطح تک پہنچ چکی ہے،ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہاکہ کسی کو منشی یا کوئی اور اصطلاح استعمال کرنا گرفتاری کا سبب کیسے بن سکتا ہے؟
ڈاکٹر شیریں مزاری نے مزید کہاکہ کیا فواد چوہدری کو سی ٹی ڈی لاک اپ میں رکھنے کی اجازت ہے؟دہشت گرد آزاد گھوم رہے ہیں لیکن سیاسی مخالفین گرفتار ہو رہے ہیں،ریاست نے اپنی کٹھ پتلی امپورٹڈ حکومت کے ذریعے پاکستان کو بنانا ریپبلک میں تبدیل کر دیا ہے۔
ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہاکہ جمہوریت ایک بھونڈا مذاق بن کر رہ گئی ہے،شریفوں،زرداریوں اور ان کے ساتھیوں کو کوئی شرم و حیا نہیں ہے،یہ ٹولا صرف اپنی لوٹی ہوئی دولت بچانے کے لیے کوشاں ہے۔
سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہاکہ تحریک انصاف میں ایک نہیں ایک لاکھ فواد چوہدری ہیں، کس کس کو اٹھاؤ گے؟اب اس ناکام حکومت کے دن زیادہ نہیں ہیں،ہماری زبان بندی نہیں کی جا سکتی، سرفروشی کی تمنا اب ہمارےدل میں ہے،دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے۔
حماد اظہر نے کہاکہ فوادچودھری نے ہمیشہ قانون کی بالادستی کی بات کی،فوادچودھری کو نامعلوم مقام پر لے گئے ، فوادچودھری سے متعلق معلومات نہ دیں تو ملک گیر احتجاج ہو گا،ان کاکہناتھا کہ گرفتاریوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے ، ملک میں لٹیرے دندناتے پھر رہے ہیں ، کیا ملک میں جمہوری حکومت قائم ہے؟حماد اظہرنے کہاکہ پی ڈی ایم ختم ہو چکی، ہمارا ان سے مقابلہ نہیں ۔
علی محمد خان کاکہناتھا کہ فواد چودھری کی گرفتاری پر دکھ ہے ،فوادچودھری کی گرفتاری پر ہمیں ڈرایا نہیں جا سکتا،فواد چودھری کی بات پارٹی کی بات ہوتی ہے۔ان کاکہناتھا کہ رات 3 بجے عمران خان کے گھر پر چھاپے مارے گئے ، عمران خان کی گرفتاری کے خدشے کے باعث کارکن ہزاروں کی تعداد میں زمان پارک پہنچے ۔
انہوں نے کہاکہ فوادچودھری کوئی دہشتگرد تو نہیں صبح ہی گرفتار کیاگیا،ہم قانون کے مطابق کاررروائی کریں گے،ان کا کہناتھا کہ9 ماہ میں ہمارے خلاف سیاسی مقدمات بنائے گئے،فوادچودھری کی گرفتاری سے ہمیں ڈرانا مقصد ہے۔
علی محمد خان نے کہاکہ موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک چکی ہے،آنے والے دنوں میں معاشی بم گرنے والا ہے ،پی ٹی آئی میں غیر متنازع شخصیات آ سکتی ہیں تو پنجاب میں کیوں نہیں ،پنجاب میں متنازع شخص کو نگران وزیراعلیٰ کیوںلگایاگیا۔انہوں نے کہاکہ ہم اسمبلی میں ہوں یا نہ ہوں ہمیں عوام کی طاقت حاصل ہے ۔
سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ فواد چوہدری کی گرفتاری اس حکومت کی بزدلی کی دلیل ہے۔
ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات پاکستان تحریک انصاف حسن خاور نے کہاکہ پورے ملک کو پتہ تھا کہ الیکشن کمیشن نے نگران وزیراعلی کس کو لگانا ہے ایک کام ہے ، الیکشن کمیشن کا کہ غیر جانبدار الیکشن کروائیں آپ وہ بھی نہ کروانا چاہیے ، کھلم کھلا طرف داری کریں اور کوئی بات بھی نہ کرے یہ نہیں ہو سکتا ، لوگوں کی زبانیں بند نہیں بلکہ اپنے فیصلے ٹھیک کریں ۔





