
اسلام آباد (آئی پی ایس)پاکستان ورکرزفیڈریشن اور ڈی ٹی ڈی اے کے زیر اہتمام دوروزہ آگاہی سیمیناربعنوان "سماجی تحفظ اور غیر رسمی شعبے کے مزدور”اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا جس میں پاکستان بھر مزدور رہنماؤں سمیت ای اوبی آئی،سوشل سیکورٹی،لیبر ڈیپارٹمنٹ،چیمبرآف کامرس اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی،سیمینار میں انٹرنیشنل پروگرام آفیسر ایلون نبویا نے شرکاء کو سماجی تحفظ اور غیر رسمی شعبے کے مزدوروں کو منظم کرنے کے حوالے سے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی،
پاکستان ورکرزفیڈریشن کے سیکرٹری جنرل چوہدری محمد یٰسین نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں غیر رسمی شعبے کی مزدوروں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے جس میں گھریلو ملازمین،زراعت سے وابستہ مزدور،چوک ورکرز،مائینرز ورکرزسمیت دیگر مزدور شامل ہیں،حکومت اور متعلقہ اداروں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے اس شعبے کے مزدوروں کے لیے کوئی قانونی تحفظ نہیں ہے اور نہ ہی سماجی تحفظ کے اداروں میں رجسٹرڈ ہیں،پاکستان ورکرزفیڈریشن پاکستان بھر کے مزدوروں کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم ہے جس کا مقصد مزدوروں کی فلاح و بہبود اورمذاکرات کے ذریعے مزدوروں کے مسائل کو حل کرنا ہے،غیر رسمی شعبے کے مزدوروں کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے اس سلسلے میں لیبر قوانین اور عالمی ادارہ محنت کے کنونشنز پر عمل درآمد کی ضرورت ہے جس طرح پنجاب میں گھریلو ملازمین کے لیے قانون موجود ہے اسی طرح گھریلو ملازمین کے لیے باقی صوبوں میں بھی قانون سازی کی جائے،
اس موقع پر انھوں نے وزیر اعظم پاکستان،وفاقی وزیر برائے انسانی وسائل و سمندر پارپاکستانیز،وفاقی سیکرٹری و دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ غیر رسمی شعبے کے مزدوروں کے لیے ترجیح بنیادوں پر قانون سازی کی جائے اور اس سلسلے میں سہ فریقی مشاورت کو یقینی بنایا جائے،وفاقی و صوبائی سطح پر سہ فریقی گورننگ باڈی میں مزدوروں کی حقیقی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے،پاکستان ورکرزفیڈریشن مستقبل میں DTDAکے ساتھ مل کر غیر رسمی شعبے کے مزدوروں کو منظم کرنے اور سماجی تحفظ کے اداروں میں انکی رجسٹریشن کو یقینی بنانے کے لیے ترجیح بنیادوں پر کام کرے گی،آخر میں انھوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم پاکستان فوری طور پر سہ فریقی کانفرنس منعقد کریں اور مزدوروں کے لیے جامع لیبر پالیسی کا اعلان کریں۔





