پاکستان

عوام کو مہنگائی سے بچارہے ہیں ، ارکان اسمبلی لوگوں سے رابطے بڑھائیں ، وزیراعظم

 

وزیر اعظم عمران خان سے وزیربحری امورسید علی حیدر زیدی؛ پشاور، اسلام آباد، راولپنڈی، جکوال سے تعلق رکھنے والے ارکان  قومی اسمبلی  اور خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب  ارکان اسمبلی  نے الگ الگ ملاقاتیں کی۔ جس میں وزیر اعظم  نے کہا، حکومت کی کامیاب معاشی پالیسیوں کی بدولت ورثہ میں ملنے والی دیوالیہ معیشت کو استحکام ملا، جواب مستحکم ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ وزیر اعظم نے تمام منتخب نمائندوں کو  ہدایت کی کہ وہ عوام کے ساتھ اپنا رابطہ مضبوط کریں تاکہ ان میں سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے جاری مختلف سرکاری اسکیموں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کی جا سکے۔

ان اسکیموں میں نیا پاکستان قومی صحت کارڈ کے تحت یونیورسل ہیلتھ کوریج، احساس کارڈ کے تحت راشن رعایت پروگرام سمیت بے شمار غریب پرور اقدامات، کسان کارڈ کے تحت فصلوں کے لیے قرضے اور سستے نرخوں پر معیاری بیج، کھاد اور کیڑے مار ادویات کی فراہمی، کامیاب جوان اور کامیاب پاکستان پروگراموں کے تحت ہوم فنانسنگ، سستے کاروباری قرضے اور نوجوانوں کے لیے  پیشہ وارانہ مہارتوں میں تربیت شامل ہیں۔

وزیراعظم نے انہیں لوگوں کو یہ حقیقت باور کرانےکی بھی ہدایت کی کہ حکومت ان کی پریشانیوں سے پوری طرح آگاہ ہے اور بین الاقوامی منڈیوں میں اشیاۓ ضروریہ کی قیمتوں میں ہونے والے تاریخی اضافے کی وجہ سے درآمدی مہنگائی کے منفی اثرات سے انہیں بچانے کے لیے تمام ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

ان عوام دوست اقدامات میں پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 10 روپے کی کمی اور بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 5 روپے کی کمی شامل ہیں۔

علاوہ ازیں ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ اور نوجوانوں کے لیے روز گار کے وسیع مواقع پیدا کرنے کےلیےآئی ٹی کمپنیز اور فری لانسرز کے لیے 100% ٹیکس چھوٹ، 100% غیر ملکی کرنسی  رکھنے کی اجازت اور آئی ٹی اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کے لیے کیپیٹل گین ٹیکس سے 100% چھوٹ شامل ہیں۔

کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت اگلے 2 سالوں میں کاروباری قرضوں پر 407 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔ احساس پروگرام کے تحت ماہانہ وظیفہ 12,000 روپے سے بڑھا کر 14,000 روپے کر دیا گیا ہے۔ گریجویٹ انٹرن شپ وظیفہ 30,000

روپے ماہانہ کے ساتھ 26 لاکھ اسکالرشپس کے لیے 38 ارب مختص کیے گۓ ہیں

وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت ٹارگٹڈ سبسڈیز اور  نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنے کے لیے سرمایہ کار دوست ماحول پیدا کر کے مہنگائی کے منفی اثرات کو کم کرنے کی بھرپورکوشش کر رہی ہے۔

 

وزیراعظم نے انہیں پنجاب اور جیبر پختونخوا میں آنے والے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے نچلی سطح پر کارکنوں کو متحرک کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعظم سے ملاقات کرنے والوں میں شوکت علی اور شیر علی ارباب ، راجہ خرم نواز اور علی نواز اعوان، راشد شفیق، منصور حیات خان اور ذوالفقار علی خان شامل تھے۔ جبکہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر مختلف ارکان میں کنول شوزب، بیگم شاہین سیف اللہ طورو، نفیسہ عنایت اللہ خٹک اور نورین فاروق ابراہیم کے علاوہ سابق رکن قومی اسمبلی چوہدری اشفاق، حاجی محمد یونس علی انصاری اور سی  ای او چین ون میاں کاشف اشفاق شامل تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker