
آزاد جموں وکشمیر کے 4300 کے لگ بھگ ایڈہاک ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک بند کیا جائے، وزیراعظم عمران خان نےمستقلی ایکٹ 2021ء پرنظرثانی کرنے کا کہا تھا تاہم اب آزاد جموں کشمیر کی موجودہ پی ٹی آئی حکومت اس ایکٹ کا ناجائز استعمال کرکے اپنے من پسند لوگوں کو بھرتی کررہی ہےاس سے بہت سے لوگوں کا روزگار خطرے میں ہے، بحیثیت ریاست حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کا روزگار بچائے، ریاست آزاد جموں و کشمیر کے آئین کے آرٹیکل 56- سی کے مطابق ریاست عوام کو دی گئی کوئی سہولت واپس نہیں لے سکتی، وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر، چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر اور آرمی چیف ایڈہاک ملازمین ایکٹ 2021ء کو بحال کرکے انہیں مستقل کرنے کے احکامات صادر فرمائیں بصورت دیگر متاثرہ ایڈہاک ملازمین اور ان کے خاندان انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوں گے،ان خیالات کا اظہار آزاد جموں وکشمیر کے 4300 جملہ ایڈہاک ملازمین کے نمائندگان، ڈاکٹر سردار انوار خان، پروفیسر بشارت جرال، پروفیسر آصف چوہدری ،محمد فرید مغل، راجہ غلام حسین، عنصر حبیب، مس سعدیہ، ثوبیہ اسحاق اور یاسمین اختر سمیت دیگر نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا، متاثرہ ایڈ ہاک ملازمین کا کہنا تھا کہ آزاد جموں کشمیر کی گذشتہ حکومت نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر مستقل بحالی ایکٹ 2021ء بنایا جس سے آزاد کشمیر کے 4300 کے لگ بھگ ایڈہاک ملازمین کو مستقل کیا گیا تاہم گذشتہ حکومت نے جاتے جاتے اس قانوں کے تحت اپنے کچھ لوگوں کو بھی بھرتی کر لیا جس کو بنیاد بنا کر پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت نے اس ایکٹ کو چھ ماہ بعد ہی معطل کرتے ہوئے مستقل کئے جانے والے تمام جملہ ملازمین کو دوبارہ سے ایڈہاک کی لسٹ میں ڈال دیا اور انہیں ملازمتوں سے فارغ کرنا شروع کر دیا ہے جو انتہائی ظلم ہے حالانکہ ریاست کا یہ قانون ہے کہ ریاست ایک بار جو سہولت عوام کو دیدے اسے واپس نہیں لیا جا سکتا، انہوں نے مزید کہا کہ اسی قانون کے تحت پنجاب، سندھ، کےپی کے اور گلگت بلتستان میں بھی اہڈہاک ملازمین کو مستقل کیا گیا ہے تو پھر آزاد کشمیر میں یہ کالا قانون کیسے ہوگیا ہے۔





