
اسلام آباد میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ سول آبادی جنگوں میں سٹریٹجک ٹارگٹ ہوتی ہے دنیا میں ہائبرڈ وار فیر بہت پہلے سے موجود ہے جس میں ہم بہت پیچھے ہیں۔ افغانستان میں نیٹو اور امریکہ کا مناسب تیاری کے بغیر کیا جانے والا انخلا پاکستان کے لیے بہت سی مشکلات کا باعث بنا ہے۔ ہماری حکومت نے انسانی حقوق کے متعدد قوانین پاس کرائے ہیں ۔ لیکن اینٹی ٹارچر اور جبری گمشدگی کے خلاف قانون ابھی پاس نہیں ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وبا میں پاکستان کی سمارٹ لاک ڈاؤن کی سٹریٹجی بہت کامیاب رہی۔ جس نے ہمیں بہت سے چیلنجز کے سامنے کامیاب کیا۔ دہشت گردی کے ساتھ جنگ نے شدت پسندی اور اسلاموفوبیا جیسے چیلنجز کو جنم دیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تعاون بہت سے خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے لیکن بھارت جیسے ملک کی موجودگی میں یہ بہت مشکل ہے۔





