
بیجنگ :رواں چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو میں امریکی کمپنیوں کے لیے مختص نمائش کا رقبہ مسلسل پہلے نمبر پر رہا۔ امریکی زرعی مصنوعات، صارفین کی اشیا، اعلیٰ معیار کے آلات، گاڑیوں اور طبی و صحت کی خدمات سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ کمپنیوں کو چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں اور وہ اس کے ذریعے چین میں نئی منڈیوں کی تلاش اور توسیع کی خواہاں ہیں۔ رواں سال ہونگ چھیاؤ انٹرنیشنل اکنامک فورم کے دوران امریکہ۔چین بزنس کونسل کے صدر شین سٹین نے چائنا میڈیا گروپ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکی کمپنیاں تجارتی تحفظ پسندی میں اضافے کو نہیں دیکھنا چاہتیں۔انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں امریکی کمپنیاں یہاں آئی ہیں اور وہ صرف اپنی مصنوعات فروخت کرنے کے لیے نہیں آئیں۔ وہ شراکت دار تلاش کرنے اور یہ دیکھنے کے لیے آئی ہیں کہ کون سے برانڈز، کمپنیاں اور ٹیکنالوجیز ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرسکتی ہیں۔ امریکی کمپنیوں نے چین میں ہونے والی بڑی تعداد میں جدت طرازی اور جدید ٹیکنالوجی میں پیش رفت دیکھی ہے اور وہ اس عمل میں شریک ہونا چاہتی ہیں۔ ان کی خواہش صرف قریب سے مشاہدہ کرنے تک محدود نہیں بلکہ وہ تعاون کے طریقے تلاش کرنا چاہتی ہیں تاکہ ان ٹیکنالوجیز کو اپنی ترقی میں شامل کیا جاسکے اور چینی یا دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر عالمی مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ رواں سال چین۔امریکہ تعلقات ایک تاریخی مرحلے میں داخل ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے سربراہان نے مشترکہ طور پر "احترام، انصاف اور برابری کی بنیاد پر تعمیری اسٹریٹجک استحکام پر مبنی چین۔امریکہ تعلقات” قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ توقع ہے کہ چین۔امریکہ تعلقات کی نئی پوزیشننگ دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان تعاون کے لیے مزید بہتر ماحول پیدا کرے گی۔





