بین الاقوامی

چین، مستقبل کے شہر میں گلوبل گورننس کا طویل مدتی نقطہ نظر

بیجنگ :گلوبل گورننس فورم 2026 (شیونگ آن) چین کے صوبہ حہ بے کے شیونگ آن نیو ایریا میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔ "اعتماد اور تعاون کی بحالی: صدی کی تبدیلی کے تناظر میں عالمی حکمرانی کی اصلاح اور بہتری” کے موضوع پر منعقد ہونے والے اس فورم میں 90 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے سیاسی، اسٹریٹجک، علمی، کاروباری اور نوجوان رہنماؤں سمیت تقریباً 400 افراد نے شرکت کی۔ فورم میں اقوام متحدہ کی مرکزیت پر مبنی بین الاقوامی نظام کا تحفظ کرنے، عالمی اقتصادی و مالیاتی نظام میں اصلاحات کو گہرا کرنے، مصنوعی ذہانت، سائبر اسپیس، اور ایرو اسپیس جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں حکمرانی کو آگے بڑھانے اور تہذیبوں کے درمیان باہمی سیکھ کو فروغ دینے جیسے موضوعات پرتفصیلی تبادلہ خیال ہوا، وسیع اتفاق رائے حاصل کیا گیا اور مستقبل کے ویژن پر مبنی ایک دستاویز بھی جاری کی گئی۔فورم کے دوران بہت سے غیر ملکی مہمانوں نے شیونگ آن نیو ایریا کا دورہ کیا۔ "انڈرسٹینڈنگ چائنا” فورم پاکستان کے چیئرمین ظفر الدین محمود نے دورے کے بعد اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "تمام ممالک شیونگ آن کی تعمیراتی کامیابیوں اور ترقی کے وژن سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ چین نے بہترین طرز حکمرانی کے نظام کے ذریعے قومی ترقی اور خوشحالی کے حصول میں دنیا کے لیے ایک مثال قائم کی ہے، جس سے چینی عوام کی زندگی بھی بہتر ہوئی ہے۔ "اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے پالیسی گائی رائیڈر نے کہا کہ چین کی دوراندیشی اور مجموعی منظرنامے کے ساتھ سوچ اور منصوبہ بندی نہایت قیمتی ہے۔آج دنیا ہنگامہ آرائی کا شکار ہے، اور یکطرفہ پسندی اور مختصر مدتی مقابلہ کثیرالجہتی فریم ورک کو متاثر کر رہا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی، ڈیجیٹل تقسیم، اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں ضوابط کی کمی جیسے عالمی چیلنجز اکثر فریقین کے درمیان قلیل مدتی مفادات اور طویل مدتی اتفاق رائے تک نہ پہنچنے کے باعث حل نہیں ہوتے۔ ترقی پذیر ممالک خاص طور پر تعاون پر مبنی ایک ایسے راستے کی امید کرتے ہیں جو زیرو سم گیم سے نکل کرتمام فریقوں کے مطالبات کو مدنظر رکھے۔ اور یہ موجودہ فورم کے انعقاد کا اصل محرک ہے۔ستمبر 2025 میں پیش کیے جانے کے بعد سے، گلوبل گورننس انیشی ایٹو نے بین الاقوامی برادری سے مثبت ردعمل حاصل کیا ہے، تقریباً 160 ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے اس کی حمایت کی، اور 60 سے زیادہ ممالک "فرینڈز آف گلوبل گورننس گروپ” میں شامل ہوئے۔ بین الاقوامی تنظیم برائے مصالحت ہانگ کانگ میں آپریشنل ہو گئی ہے، اور ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن اورث ورلڈ ڈیٹا آرگنائزیشن جیسی تنظیمیں یکے بعد دیگرے قائم کی گئی ہیں ۔ معاون دستاویزات اوروائٹ پیپرز جاری کیے گئے اوراس تصور کو مسلسل ایک کثیرالجہتی عملی میکانزم میں تبدیل کیا گیا ہے۔ شیونگ آن فورم اس انیشی ایٹو کے نفاذ کے لیے ایک اہم کثیر الجہتی عمل ہے۔فورم کی افتتاحی تقریب میں سی پی سی سینٹرل کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اورچینی وزیر خارجہ وانگ ای نے گلوبل گورننس انیشی ایٹو کو مزید نافذ کرنے اور ایک زیادہ منصفانہ اور مساوی عالمی حکمرانی کے نظام کی تعمیر کو فروغ دینے کے لیے چین کی طرف سے آٹھ عملی اقدامات کا اعلان کیا۔ اپنی تقریر میں انہوں نے تجویز پیش کی کہ عالمی حکمرانی کی اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے قلیل المدتی اوراپنے فائدے پر مبنی سوچ کو ترک کرنے اور طویل مدتی تعاون کے تصور کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ عالمی حکمرانی کوئی زیرو سیم گیم نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں زیادہ عملی اقدامات کرنے چاہئیں جو اس مقصد کی بنیادوں کو مضبوط کرنے اور طویل مدتی فائدے کے لیے ہوں ۔ شیونگ آن نیو ایریا کی تعمیر اس تجویز کی ایک واضح اور ٹھوس مثال فراہم کرتی ہے۔شیونگ آن "شروع سے آخر تک ایک ہی بلیو پرنٹ” کے اصول پر عمل پیرا ہے، زمین پر، زیر زمین، اورکلاؤڈ "تین شہروں” کی تعمیر کو مربوط کرتے ہوئے اور ماحولیاتی تحفظ، انسان کو مرکزی حیثیت دینے اور ذہین ترتیب کو مدنظر رکھتے ہوئے نسل درنسل قدر کی پیروی کرتا ہے۔ شیونگ آن کا مظاہرہ ایک مقررہ ترقیاتی ماڈل کو برآمد کرنے کے لئے نہیں ہے، بلکہ ایک حوالہ فراہم کرنے کے بارے میں ہے کہ چاہے شہری ترقی ہو یا عالمی معاملات ، صرف قلیل مدتی سوچ سے آگے بڑھ کر اور مشاورت، مشترکہ تعمیر، اور مشترکہ فوائد کے اصولوں پر عمل کرنے سے ہی پائیدار مشترکہ ترقی حاصل کی جا سکتی ہے۔فورم میں مختلف ممالک کے نمائندوں نے اپنے مشترکہ تحفظات کا اظہار کیا۔ کرغزستان کے سابق وزیر اعظم جومات اورتوربائیف نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ موجودہ عالمی حکمرانی کا نظام ایک مخصوص تاریخی مرحلے میں پیدا ہوا اور ترقی پذیر ممالک کی آواز ناکافی ہے، جس کی وجہ سے ضوابط ان ممالک کے مطالبات کا مکمل جواب نہیں دے سکتے۔ اس فورم پر جاری کیے گئے نتائج، جیسے کہ "مصنوعی ذہانت کی صلاحیت کی تعمیر کے لیے جامع منصوبہ پر پیش رفت کی رپورٹ” ترقی پذیر ممالک کو اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے اور حکمرانی کے نظام کے ارتقا کو زیادہ منصفانہ بنانے کی طرف فروغ دینے میں مدد کرے گی۔ ایک اچھے خیال کی کلید اس کے نفاذ میں مضمر ہے، اور تعاون میں اعتماد حاصل کرنے کے لیے عملی اقدامات کے ایک سلسلے کی ضرورت ہے۔فورم کے نام اپنے تہنیتی پیغام میں چینی صدر شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ انسانیت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑی ہے۔ تمام ممالک کو مشاورت، مشترکہ شراکت اور مشترکہ فوائد کے عالمی گورننس کے تصور پر عمل کرنا چاہیے، عالمی گورننس کے نظام کو بہتر بنانا چاہیے اور عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ شیونگ آن میں موجود طویل مدتی نقطہ نظر صدر شی جن پھنگ کے تہنیتی پیغام کے جذبے کے عین مطابق ہے۔ گروہی محاذ آرائی، تقسیم اور تنازعات مشترکہ مسائل کو حل نہیں کر سکتے۔ انسانیت کی تقدیر آپس میں جڑی ہوئی ہے اور کوئی بھی ملک ایک دوسرے سے الگ نہیں رہ سکتا۔شیونگ آن کی سڑکوں اور گلیوں سے لے کر دنیا کی وسیع زمین تک، حکمرانی کی بنیادی منطق مطابقت میں موجود ہے ۔ شیونگ آن کا جواب نہ صرف ایک مستقبل کے شہر کی تعمیر کے بارے میں ہے، بلکہ دنیا کے لیے ایک اشارہ بھی ہے کہ صرف قلیل مدتی مقابلے سے بالاتر ہو کرکثیرالجہتی کو برقرار رکھنے، مشاورت، مشترکہ تعمیر اور مشترکہ فوائد کے اصول پر قائم رہنے اور مسلسل اتفاق رائے جمع کرنے سے ہی ہم بتدریج بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کے وژن کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker