
امریکا نے اسرائیل سے مغربی کنارے میں پر تشدد کارروائیاں کرنے پر اسرائیلی آبادکاروں کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا ہے کہ فلسطینیوں اور صحافیوں پر حملوں کی تصاویر اور رپورٹس تشویشناک ہیں۔
مارکو روبیو کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دو دن پہلے مغربی کنارے کے ایک گاؤں میں اسرائیلی آبادکاروں نے حملہ کرکے متعدد فلسطینیوں اور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی فوٹوگرافر ہیڈی لیوین کو زخمی کر دیا تھا۔
امریکی وزیر خارجہ نے اسرائیل سے حملے روکنے کیلئے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا اور امریکی صحافی پر حملے کے معاملے پر امریکی سفارتخانے سے تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ حقائق سامنے آنے کے بعد اسرائیلی حکام کو متوقع اقدامات سے آگاہ کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 27 ستمبر سے اب تک مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر آبادکاروں کے 170 حملے رپورٹ ہوئے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مغربی کنارے میں کشیدگی یا نیا بحران نہیں چاہتے۔
واضح رہے گزشتہ روز مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں نے یورپی سفارت کاروں کے قافلے پر حملہ کرکے 78 سالہ فرانسیسی میئر برنارڈ باؤڈوکس کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔
رائٹرز کے مطابق فرانس، بیلجیم اور پولینڈ کے سفارتی مشنز کی گاڑیوں میں سوار سفارت کار مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں طیبہ پہنچے تھے، جہاں فلسطینی زیتون کی فصل جمع کر رہے تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی آبادکاروں نے فلسطینیوں کو زیتون کی کٹائی سے روکنے کے لیے حملہ کیا اور سفارت کاروں کے ساتھ بھی جارحانہ رویہ اختیار کیا۔ اس دوران شمالی فرانس کے قصبے اولنوی ایمریز کے 78 سالہ میئر برنارڈ باؤڈوکس کو لاتیں ماریں اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
بیلجیئم کے وزیر خارجہ میکسیم پریوو نے بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والوں میں فلسطینیوں کے لیے بیلجیئم کے قونصل جنرل، فرانسیسی اور پولش سفارت کاروں کے علاوہ کیتھولک نمائندے بھی شامل تھے۔ اسرائیلی آباد کاروں نے بیلجیئم کی ایک گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا۔





