
بیجنگ :چین اس وقت جدید بنیادی ڈھانچے کے ایک بڑے منصوبے پر کام کر رہا ہے، جس کے تحت "چھ نیٹ ورکس” تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ ان میں آبی نیٹ ورک، نئی نسل کا بجلی کا نیٹ ورک، کمپیوٹنگ نیٹ ورک، نئی نسل کا مواصلاتی نیٹ ورک، شہری زیرِ زمین پائپ لائن نیٹ ورک اور لاجسٹکس نیٹ ورک شامل ہیں۔ ان میں سے ہر ایک نیٹ ورک چینی عوام کی روزمرہ زندگی سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
آبی نیٹ ورک سیلاب اور دیگر آبی آفات، آبی وسائل اور آبی ماحول سے متعلق مسائل کے جامع حل میں مدد دے گا۔ نئی نسل کا بجلی کا نیٹ ورک زیادہ سے زیادہ سبز توانائی کو بجلی کے گرڈ سے منسلک کرنے میں معاون ہوگا۔ کمپیوٹنگ نیٹ ورک ملک بھر میں موجود کمپیوٹنگ وسائل کو ایک مربوط نیٹ ورک میں شامل کرے گا۔
نئی نسل کا مواصلاتی نیٹ ورک 6G سے لے کر سیٹلائٹ انٹرنیٹ تک مختلف مواصلاتی ذرائع کو مربوط کرتے ہوئے فضائی، زمینی اور سمندری ذرائع پر مشتمل ایک جامع نظام تشکیل دے گا۔
شہری زیرِ زمین پائپ لائن نیٹ ورک گیس، پانی کی فراہمی و نکاسی اور حرارتی نظام کے محفوظ اور مؤثر آپریشن کو یقینی بنائے گا۔
لاجسٹکس نیٹ ورک بکھرے ہوئے نقل و حمل کے راستوں اور مراکز کو ایک مربوط نظام میں جوڑ کر سامان کی ترسیل کو مزید مؤثر بنائے گا۔
چین کے قومی کمیشن برائے ترقی و اصلاحات کے ابتدائی اندازے کے مطابق رواں سال "چھ نیٹ ورکس” اور پانچ اہم شعبوں کی تعمیر میں سرمایہ کاری کا حجم 7 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر جائے گا۔ "چھ نیٹ ورکس” نہ صرف چین کے جدید بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنا رہے ہیں بلکہ معیشت کی نئی سمت میں پیش رفت کے لیے اعتماد اور نئی قوت بھی فراہم کر رہے ہیں۔





