
روس کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، روس کے نائب وزیر خارجہ آںدرے رودینکو نے کہا کہ روس جاپان کے اس وعدے پر یقین نہیں رکھتا کہ وہ مشترکہ فوجی مشقوں کے بعد درمیانی فاصلے تک مار کرنے والا امریکی میزائل نظام "ٹائفون” ہٹائے گا اس لیے روس جوابی اقدامات کی تیاری کرےگا۔
رودینکو نے کہا کہ جاپانی حکومت نے روس کو یقین دہانی کرائی تھی کہ فوجی مشقوں کے بعد "ٹائفون” میزائل سسٹم ہٹا لیا جائے گا، لیکن روس کو جاپان کی موجودہ حکومت پر بھروسہ نہیں ہے۔
روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے کہا تھا کہ 3 ستمبر کو روسی وزارت خارجہ نے "ٹائفون” کے معاملے پر جاپان کو احتجاجی نوٹ بھیجا تھا اور اس طرح کے نظام کی تعیناتی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔زاخارووا نے کہا کہ اگرچہ روس کی جانب سے متعدد بار جاپان سے رابطہ کیا جا چکا ہے اور واضح کیا جا چکا ہے کہ جاپان میں "ٹائفون” سسٹم کی تعیناتی روس کی قومی سلامتی، خطے کے امن اور استحکام کے لیے ہے، لیکن اس کے باوجود جاپانی حکومت اس کی تعیناتی پر مصر ہے۔اس سے قبل، جاپان میں "ٹائفون” میزائل سسٹم کی تعیناتی پر ہمسایہ ممالک نے بھی شدید احتجاج کیا تھا۔





