بین الاقوامی

امریکی صدر کے ساتھ مختلف ذرائع سے رابطے برقرار رکھنے کے لیے تیار ہیں، چینی صدر

بیجنگ :چین کے صدر شی جن پھنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں بات چیت کی۔شی جن پھنگ نے کہا کہ چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں چین اور امریکہ کے سربراہانِ مملکت کے باہمی دورے چین اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ میں بے مثال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مختلف ذرائع سے رابطے برقرار رکھنے کے لیے تیار ہیں، تاکہ دونوں رہنما مل کر چین۔امریکہ تعلقات کے بڑے جہاز کی درست سمت میں قیادت کر سکیں ۔شی جن پھنگ نے کہا کہ چین اور امریکہ کے درمیان تعمیری تزویراتی استحکام پر مبنی تعلقات کی نئی پوزیشننگ دونوں ممالک کے تعلقات کی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے اور مستقبل کے لیے امیدوں کی ترجمانی بھی کرتی ہے۔ یہ دونوں ممالک کے لیے درست طور پر ساتھ رہنے کی راہ پر ایک اہم قدم ہے۔ فریقین کو اس وژن کو عملی شکل دیتے ہوئے چین اور امریکہ کے تعلقات کے لیے مزید مستحکم، صحت مند اور پائیدار مستقبل تشکیل دینا چاہیے۔صدر شی جن پھنگ نے زور دیا کہ دونوں فریقوں کی اقتصادی و تجارتی ٹیموں نے ایک نئے دور کی مشاورت کی ہے اور ایک نئے مشترکہ انتظام پر اتفاق کیا ہے ، جو دونوں ممالک کی صنعتوں، عوام اور عالمی معیشت کے لیے خوش آئند خبر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعاون دونوں جانب سے آگے بڑھنے والی سڑک ہے، چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات کے استحکام کے لیے نہ صرف تعاون کی فہرست کو طویل کرنے کی ضرورت ہے بلکہ مسائل کی فہرست کو مختصر کرنا بھی ضروری ہے۔ مساوات، باہمی احترام اور باہمی فائدے کے جذبے سے کام لیا جائے، تو مسائل کا حل ممکن ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کہ دونوں فریق ایک ہی سمت میں آگے بڑھیں، باہمی فائدے اور جیت جیت کے اصول پر قائم رہیں اور چین -امریکہ تجارتی تعلقات کو مسلسل، مستحکم اور بہتری کی جانب مزید آگے بڑھائیں۔صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ چین اور امریکہ دونوں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مسابقت بھی ہے، تاہم تعاون کی گنجائش اس سے کہیں زیادہ ہے۔ دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کے بجائے اپنی اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانی چاہئیں۔ فریقین مصنوعی ذہانت کے حوالے سے مکالمہ جاری رکھ سکتے ہیں، اس کے خطرات اور فوائد پر تبادلہ خیال کر سکتے ہیں اور یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ AI کا غلط یا بدنیتی پر مبنی استعمال نہ ہو۔ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی پر انسانی کنٹرول برقرار رہنا چاہیئے، اس کی ترقی کا مرکز "انسانیت پر مبنی” اور عوامی فلاح کے تصور کے مطابق آگے بڑھایا جانا چاہیئے، تاکہ AI انسانیت کی ترقی کے لیے خدمات انجام دے سکے۔شی جن پھنگ نے زور دیا کہ چین کا ملک کی وحدت اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے حوالے سے موقف واضح ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ تائیوان کی علیحدگی” کی مخالفت کے درست موقف پر قائم رہے گا، تائیوان سے متعلق امور کو احتیاط سے سنبھالے گا اور چین۔امریکہ اسٹریٹجک تعاون اور دوطرفہ تعلقات کی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کا یہ دورہ ایک عظیم دورہ ہے۔ امریکہ اور چین دونوں بڑی طاقتیں ہیں،وہ صدر شی جن پھنگ کے اچھے دوست ہیں اور دونوں صدور گہرا اور قریبی رابطہ رکھے ہوئے ہیں۔ا ن کا کہنا تھا کہ دونوں صدور کی قیادت میں امریکہ- چین تعلقات یقیناً بہتر ہو سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کی تجارتی ٹیموں نے نئے دور کی مشاورت سے نئی کامیابیاں حاصل کی ہیں، فریقین کو مکالمہ جاری رکھنا چاہیے اور مزید بہتر معاہدوں تک پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت انسانیت کے مستقبل سے جڑی ہوئی ہے، اس لیے امریکہ اور چین کو اس پر بات چیت جاری رکھتے ہوئے تعاون کو مزید آگے بڑھانا چاہیے۔دونوں سربراہان مملکت نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، یوکرین بحران، جزیرہ نما کوریا اور دیگر اہم بین الاقوامی و علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔دونوں صدور نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ 2026 میں ایشیا پیسفک اکنامک کوآپریشن کے رہنماؤں کے غیر رسمی اجلاس اور "گروپ آف (G20) کے رہنماؤں کے اجلاس کی کامیاب میزبانی کے لیے ایک دوسرے کی حمایت کریں گے۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker