بین الاقوامیٹاپ سٹوری

ہم تیل فروخت کرکے اس کی ادائیگی بھی وصول کر رہے ہیں، محسن رضائی

تہران: سربراہ قومی سلامتی کمیٹی ایران میجر جنرل محسن رضائی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا ایران کیخلاف 10روزہ انتہائی شدید جنگ شروع کروں گا، میں پوچھتا ہوں کہ یہ دس روزہ جنگ ایک روزہ جنگ میں کیوں بدل گئی؟۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق سربراہ قومی سلامتی کمیٹی ایران میجر جنرل محسن رضائی نے کہا کہ ٹرمپ سمجھتا تھا ہمیں امریکی اہداف کاعلم نہیں، ہم نے دو تین ایسے امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جہاں امریکی افسر موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ اردن میں فوجی اڈے پر دفاعی سسٹم ہی نہیں تھا، عراق میں اربیل کے فوجی اڈے پر بھی پوری طاقت کے ساتھ حملے کئے، ٹرمپ کی دس روزہ جنگ ایک روزہ جنگ میں تبدیل ہوگئی۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ثالث ممالک پر اعتماد کی وجہ سے قبول کی گئی تھی، پاکستان، قطر اور عمان معاہدے پر عمل کی ضمانت نہیں دے سکے، ٹرمپ مسلسل معاہدے کی خلاف ورزیاں کرتے رہے، کوئی ثالث انہیں نہ روک سکا۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ معاہدے سے باہر نکل گئے، اختلافی مسائل کے حل کیلئے پاکستانی اور قطری 2 رکنی کمیٹی بھی ٹرمپ کو نہ روک سکی۔
موجودہ صورتحال میں سفارتکاری میں کسی قسم کی ضمانت نہیں، ہم اس وقت سفارتکاری میں ضامن کی تلاش میں ہیں، امریکا پہلے شرائط پر عمل کرکے اپنا قابل اعتماد ہونا ثابت کرے۔
پہلے مرحلے پر عمل کے بغیر دوسرے مرحلے میں داخل نہیں ہونگے، ضمانت کا ایک مرحلہ اعتماد سازی ہے، امریکی اور صیہونی حکام 8 اور 9 جنوری کی طرح اندرونی بغاوت جیسے کسی اقدام کے درپے ہیں۔
امریکی اور صیہونی حکام بیک وقت حملہ کرنے کاارادہ رکھتے ہیں، خدائے بزرگ وبرترکے فضل و کرم سے دونوں کوششوں کو ناکام بنا دیں گے، ہم نے بحری جہاز شکن میزائل کا تجربہ ایک امریکی جنگی بحری بیڑے کے اوپر کیا، امریکی بوکھلاہٹ کے عالم میں وہاں سے بھاگ نکلے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں نئے کوریڈورکے حوالے سے عمان کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا، کوریڈور کے داخلی اورخارجی راستوں کاانتظام ایران کے پاس ہوگا، آنے والے دنوں میں عمان کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔
آبنائے ہرمز میں اپنے اقدامات کو مزید سخت کر رہے ہیں، آبنائے ہرمز پر پابندیوں کا اثر میزائلوں کے اثر سے کہیں زیادہ ہوگا، حکومت کافی عرصے سے پیشگی منصوبہ بندی کر رہی ہے، خوراک اور اشیائے خورد و نوش کے وافر ذخائر موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم تیل فروخت کررہے ہیں اور اس کی ادائیگی بھی وصول کر رہے ہیں،48 گھنٹے قبل پہلی بار تباہ کن جنگی جہاز سے میزائل کا تجربہ امریکی جنگی جہازکیخلاف کیا۔

ایران امریکا کے نوکر کے طور پر کام کرے تو امریکا اسے قابل اعتماد سمجھتا ہے، ایران امریکا کے تابع نہ ہو تو اسے ناقابلِ اعتماد قرار دیا جاتا ہے، آئندہ چند دنوں میں آبنائے ہرمزکے باہر ممنوعہ علاقے یا مخصوص زون کا اعلان کرینگے۔
محسن رضائی نے کہا کہ ممنوعہ زون امریکی ناکہ بندی کی لکیر سے شروع ہوکر ہرمز اور خلیج فارس کے آخری سرے تک پھیلا ہوگا، ممنوعہ علاقے میں داخل ہونیوالے بحری جہاز کو ایران کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا جائیگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ ہم آہنگی کے بغیر بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے قابل نہیں ہونگے۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker