
بیجنگ : چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے بیجنگ میں گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو کے 5 سال مکمل ہونے پر اعلیٰ سطحی کانفرنس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔بدھ کے روز وانگ ای نے کہا کہ پانچ سال قبل، عالمی ترقی کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے چینی صدر شی جن پھنگ نے گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو پیش کیا، جس نے عالمی ترقی کے فروغ کے لیے چینی دانش اور چینی کردار کو اجاگر کیا۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اس انیشی ایٹو کی نظریاتی رہنمائی مسلسل مضبوط ہوئی، مختلف شعبوں میں تعاون کے طریقۂ کار بہتر ہوتے گئے، جبکہ عملی تعاون کے ثمرات بھی مسلسل سامنے آتے رہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی صورتحال میں بڑھتی ہوئی بے یقینی اور تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو کی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ ہمیں ترقی کے مشترکہ وژن کو مضبوطی سے آگے بڑھاتے ہوئے اس انیشی ایٹو کو اقوام متحدہ کے 2030 کے پائیدار ترقیاتی ایجنڈے سے مؤثر انداز میں ہم آہنگ کرنا چاہیے۔ وانگ ای نے اس حوالے سے چار تجاویز پیش کیں: پہلی ، اتحاد اور تعاون کو مضبوط بنا کر پرامن ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے۔ دوسری، مشترکہ عملی اقدامات کو فروغ دے کر 2030 کے ترقیاتی ایجنڈے پر عمل درآمد تیز کیا جائے۔ تیسری ، کشادگی اور باہمی سیکھنے کو فروغ دیتے ہوئے جدت پر مبنی ترقی کی رفتار بڑھائی جائے۔ چوتھی ، کثیرالجہتی نظام پر ثابت قدم رہتے ہوئے عالمی طرزِ حکمرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔وانگ ای نے زور دیا کہ بین الاقوامی صورتحال خواہ جیسی بھی ہو، چین ایک ذمہ دار بڑی طاقت کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، اپنی ترقی کو دنیا کے دیگر ممالک کی مشترکہ ترقی سے ہم آہنگ رکھے گا، عالمی ترقی کے فروغ میں فعال کردار ادا کرے گا، گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو پر عمل درآمد کو مسلسل آگے بڑھائے گا، دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ ترقی کے مواقع بانٹے گا، اور بنی نوعِ انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو آگے بڑھائے گا۔





