
اسلام آباد (آئی پی ایس )صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے وزیراعظم کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں 74روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 67روپے فی لیٹر کمی کے اعلان کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف عوام بلکہ صنعت، تجارت، زراعت اور ٹرانسپورٹ سمیت معیشت کے تمام شعبوں کیلئے انتہائی مثبت اور دور رس نتائج کا حامل ثابت ہوگا۔
جمعہ کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ پاکستانی عوام اور کاروباری طبقے تک منتقل کرنا حکومت کا دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی سے اشیائے ضروریہ کی ترسیل، مال برداری، پیداواری لاگت اور کاروباری اخراجات میں کمی آئے گی جس سے مہنگائی پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد حکومت کو توانائی کے شعبے میں مزید اصلاحات پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صنعتی، تجارتی اور گھریلو صارفین کیلئے بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی جائے، اضافی سرچارجز اور غیر ضروری مالی بوجھ کم کیے جائیں اور بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے ذریعے پیداواری لاگت کو خطے کے دیگر ممالک کے برابر لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی برآمدی صنعت اس وقت شدید علاقائی مسابقت کا سامنا کر رہی ہے، ایسے میں سستی بجلی اور سستا ایندھن ہی ملکی صنعت کو عالمی منڈی میں موثر مقابلے کے قابل بنا سکتا ہے۔ اگر حکومت توانائی کی قیمتوں میں مزید کمی لانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے برآمدات، سرمایہ کاری، روزگار اور صنعتی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا۔صدر ایف پی سی سی آئی نے وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل کو ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے میں بطور ثالث اہم کردار ادا کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر عالمی سفارت کاری میں اپنی اہمیت ایک بار پھر منوائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت سے نہ صرف خطے میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا بلکہ عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام پیدا ہوگا جس کے مثبت اثرات پاکستان سمیت پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہوں گے۔عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ کاروباری برادری وزیراعظم اور قومی قیادت کی جانب سے معاشی استحکام، علاقائی امن اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتی ہے اور امید کرتی ہے کہ توانائی، ٹیکس اور کاروباری اصلاحات کے ذریعے پاکستان کو پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا۔





