
بیجنگ ()
عالمی برادری چینی صدر شی جن پھنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ متعدد ممالک کی شخصیات کا خیال ہے کہ یہ ایک تاریخی ملاقات ہے، جس نے دنیا کو ایک مثبت اشارہ بھیجا ہے۔
امریکا میں ایسٹ ایشین اسٹڈیز کے اسکالر اور فیئرلی ڈکنسن یونیورسٹی کے وزٹنگ پروفیسر جیسی گیٹس کا خیال ہے کہ چین اور امریکا کے درمیان "تعمیری اسٹریٹجک استحکام پر مبنی تعلقات” کی تعمیر ایک ناگزیر انتخاب ہے اور چین اور امریکا کے ایک ہی سمت میں آگے بڑھنے سے دونوں ممالک اور دنیا کو یقیناً فائدہ ہوگا۔ آسٹریلین سٹیزنز پارٹی کے قومی چیئرمین رابرٹ باروک نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کا وژن دور اندیشی پر مبنی ہے۔ انہوں نے تعاون، اعتدال پسند مسابقت، قابل کنٹرول اختلافات اور امن کے مستقبل پر مبنی چین-امریکا تعلقات کے لیے ایک نئی پوزیشنگ کو واضح کیا ہے، جو عوامی توقعات کی بھی ترجمانی کرتی ہے۔
ایکواڈور کی سابق وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سابق صدر ماریہ فرنانڈا ایسپینوسا نے کہا کہ بیجنگ میں چین اور امریکا کے رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات تاریخی اہمیت کی حامل ہے، جس نے دنیا کو ایک مثبت اشارہ فراہم کیا ہے۔ برطانیہ کی رائل ایسٹ ویسٹ انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے چیئرمین ایڈورڈ ای لیوس کے مطابق، دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے طور پر، اقتصادی خوشحالی کا حصول چین اور امریکا دونوں کے لیے ایک اہم ہدف ہے۔ دونوں سربراہان مملکت کے درمیان اس ملاقات کی کلید یہ ہے کہ چین اور امریکا نے باہمی جیت پر مبنی نتائج حاصل کرنے اور عالمی استحکام اور امن میں کردار ادا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔





