تجارت

سارک چیمبر صدر چندی راج ڈھکل کا ایف پی سی سی آئی سیکرٹریٹ کا دورہ، تعاون بڑھانے پر اتفاق

اسلام آباد: سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر چندی راج ڈھکل نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے پریزیڈنٹ سیکرٹریٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ سے ملاقات کی۔
ملاقات میں چندی راج ڈھکل نے عاطف اکرام شیخ کو سارک چیمبر کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اسی طرح عاطف اکرام شیخ کو سینئر نائب صدر کا عہدہ سنبھالنے پر بھی مبارکباد دی گئی۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے تنظیمی امور، علاقائی تجارت کے فروغ اور سارک خطے میں کاروباری سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سارک کی بزنس آرگنائزیشن کو مزید متحرک کیا جائے گا تاکہ رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔
اجلاس میں سارک کے رکن ممالک کے درمیان فضائی اور زمینی رابطوں (کنیکٹیویٹی) کو بہتر بنانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا، تاکہ خطے میں تجارت اور نقل و حمل کو مزید آسان بنایا جا سکے۔
اس موقع پر سابق صدر فیڈریشن زبیر احمد ملک، نائب صدر طارق جدون، چیئرمین کیپیٹل آفس کریم عزیز ملک اور چیئرمین کوآرڈینیشن ملک سہیل بھی موجود تھے۔
عاطف اکرام شیخ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ممبر ممالک کو باہمی تعاون پر توجہ دینی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور دیگر سارک ممالک کو مل کر خطے کی ترقی کے لیے کام کرنا ہوگا تاکہ اس کا براہِ راست فائدہ عام آدمی تک پہنچے۔ ان کے مطابق سارک ریجن میں مشترکہ ترقی اور پیش رفت کے بے شمار مواقع موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔
چندی راج ڈھکل نے کہا کہ پاکستان سارک کا ایک اہم رکن ملک ہے اور اس نے تنظیم کے قیام اور استحکام میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سارک کی بزنس کمیونٹی کو حکومتوں کے ساتھ مل کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں سارک ہاؤس کا قیام تمام رکن ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس سے تنظیمی روابط اور تعاون کو مزید تقویت ملے گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ رکن ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے لیے متعدد اقدامات زیر غور ہیں، جن پر مشترکہ طور پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker